خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایک سینئر افسر شمشاد اختر نامعلوم افراد کی فائرنگ میں جاں بحق ہوگئے۔ ضلع پولیس افسر عبدالسماد خان کے مطابق شمشاد اختر اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل کے منصب پر کام کر رہے تھے اور اپنے بھائی کے انتقال کے بعد آبائی علاقے گڑہ بلوچ آئے ہوئے تھے۔

پولیس کے بیان کے مطابق وہ رہائش گاہ پر تعزیت کے لیے آنے والے افراد سے مل رہے تھے۔ جب وہ گھر سے باہر نکلے تو نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق وہ موقع پر ہی جان سے گئے۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے علاقے میں جائے وقوعہ کو محفوظ بنایا اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کی۔ رپورٹ سامنے آنے تک حملہ آوروں کی شناخت یا اس حملے کی وجہ کے بارے میں حتمی معلومات دستیاب نہیں تھیں۔

الیکشن کمیشن نے اپنے افسر کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن کی جاری کردہ پریس ریلیز میں شمشاد اختر کو دیانت دار، منکسر المزاج اور فرض شناس افسر قرار دیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے اپنے بیان میں اسے ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ قرار دیا، تاہم یہ ادارے کا بیان ہے؛ پولیس کی تحقیقات سے محرکات اور ذمہ داروں کا تعین ہونا باقی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر، کمیشن کے ارکان، سیکریٹری اور ملازمین نے سوگوار خاندان سے تعزیت کی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق متوفی اپنے ساتھیوں میں پیشہ ورانہ رویے اور ذاتی دیانت داری کے باعث احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

یہ واقعہ ایک اہم آئینی ادارے کے سینئر افسر کی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ تاہم تفتیش مکمل ہونے سے پہلے کسی فرد یا گروہ کو حملے کا ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں ہوگا۔ پولیس نے صرف اتنا بتایا ہے کہ نامعلوم ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ واقعے کی خبر گیارہ اکتوبر کو شائع ہوئی جبکہ فائرنگ ہفتہ دس اکتوبر کو ہوئی تھی۔