الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں طویل عرصے سے مؤخر بلدیاتی انتخابات کے لیے نیا شیڈول جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ہدایت کی کہ انتخابی عمل اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت آگے بڑھایا جائے۔

دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق بنچ نے کمیشن کے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ 21 اکتوبر کو ہی تازہ انتخابی شیڈول تیار کرکے جاری کیا جائے۔ یہ کارروائی وزارت داخلہ کے سیکریٹری اور اسلام آباد کے چیف کمشنر کو جاری کیے گئے نوٹس کے بعد ہوئی۔ کمیشن کا مؤقف رہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں مقامی حکومت کے انتخابات کے لیے قانونی اور انتظامی تقاضوں کو بروقت مکمل کیا جانا ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے 20 جولائی 2026 کو اسلام آباد لوکل گورنمنٹ رولز سے متعلق اپنی آرا وزارت داخلہ کو بھجوائی تھیں تاکہ قانون سازی اور قواعد کو کمیشن کی سفارشات کے مطابق حتمی شکل دے کر شائع کیا جا سکے۔ وفاقی دارالحکومت کی آخری منتخب مقامی حکومت کی مدت فروری 2021 میں ختم ہو گئی تھی، لیکن مختلف قانونی اور انتظامی وجوہات کی بنا پر نئے انتخابات مسلسل مؤخر ہوتے رہے۔

انتخابات ایکٹ 2017 کی دفعہ 219(4) کے تحت الیکشن کمیشن پر مقامی حکومت کی مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر نئے انتخابات کرانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں کئی برس کی تاخیر کے باعث انتخابی عمل، حلقہ بندیوں، مقامی حکومت کے قانونی ڈھانچے اور وفاقی انتظامیہ کی تیاریوں سے متعلق معاملات بار بار زیر بحث آتے رہے ہیں۔ تازہ حکم اس طویل تعطل کو ختم کرنے کی جانب ایک اہم انتظامی قدم ہے۔

الیکشن کمیشن کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ انتخابی مراحل کو نئے شیڈول کے مطابق منظم کیا جائے گا۔ تاہم پولنگ کی حتمی تاریخ، امیدواروں کے کاغذات نامزدگی اور دیگر مرحلہ وار تفصیلات وہی معتبر ہوں گی جو کمیشن کے باضابطہ شیڈول میں درج ہوں۔ اس لیے کسی سابقہ یا مجوزہ تاریخ کو حتمی سمجھنے کے بجائے الیکشن کمیشن کے تازہ نوٹیفکیشن کو بنیادی دستاویز تصور کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں منتخب مقامی حکومت کی بحالی شہری انتظام، بلدیاتی خدمات اور مقامی نمائندگی کے حوالے سے اہم ہے۔ تازہ عدالتی نوعیت کی کمیشن کارروائی کے بعد اب توجہ اس بات پر ہو گی کہ قانونی اور انتظامی رکاوٹیں دور کرکے انتخابی شیڈول پر کس حد تک بروقت عمل کیا جاتا ہے۔