اسلام آباد: جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف اپنی احتجاجی تحریک کا تیسرا مرحلہ 23 اکتوبر سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق جمعہ کو ملک بھر کے اضلاع میں دھرنے دیے جائیں گے اور مرکزی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہوگا۔
جیو نیوز کے مطابق جماعت اسلامی کے ترجمان نے کہا کہ حکومتی کمیٹی نے اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے درمیان ملاقات طے کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا، تاہم پارٹی کا مؤقف ہے کہ ابتدائی اتفاق کے بعد حکومت کی جانب سے مزید رابطہ نہیں کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے اس مخصوص دعوے پر فوری تفصیلی ردعمل رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعظم سے ملاقات ہوتی ہے تو اس کے ایجنڈے میں پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ مرکزی نکتہ ہوگا۔ پارٹی نے گزشتہ ماہ اسلام آباد کی جانب اپنے مارچ کا اگلا مرحلہ وزیراعظم کے رابطے کے بعد مؤخر کیا تھا، لیکن حافظ نعیم نے اس وقت واضح کیا تھا کہ مذاکرات پر آمادگی کے باوجود احتجاجی تحریک ختم نہیں کی جا رہی۔
پارٹی اس سے پہلے ملک بھر میں سینکڑوں مقامات پر دھرنے اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کر چکی ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ ایندھن پر عائد لیوی مہنگائی اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافے کا باعث بنتی ہے اور حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کے لیے اسے ختم کرنا چاہیے۔ دوسری طرف پیٹرولیم لیوی وفاقی محصولات کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے، اس لیے اس میں بڑی کمی یا خاتمہ حکومتی مالیاتی حسابات پر اثر ڈال سکتا ہے۔
اعلان کے مطابق تیسرے مرحلے میں احتجاج ضلعی سطح پر منظم کیا جائے گا۔ دھرنوں کی حتمی تعداد، ہر شہر کے مقامات اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ انتظامی معاملات الگ الگ طے ہونے کی توقع ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ مستقبل کے لائحہ عمل سے پہلے حکومت سے تحریری یقین دہانیوں کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔
یہ اعلان احتجاجی منصوبے کا ہے؛ دھرنوں کے حقیقی حجم اور ملک بھر میں سرگرمی کی سطح 23 اکتوبر کو عملی صورت حال سامنے آنے کے بعد واضح ہوگی۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مجوزہ مذاکرات کی تاریخ بھی تاحال حتمی طور پر سامنے نہیں آئی۔
