الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ووٹر رجسٹریشن میں مردوں اور خواتین کے درمیان فرق کم کرنے کے لیے پنجاب کے ضلع قصور اور سندھ کے ضلع قمبر شہدادکوٹ میں ایک پائلٹ منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ منصوبے کے تحت نومبر 2026 میں ابتدائی ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا، جبکہ باقاعدہ ووٹر رجسٹریشن کی سرگرمیاں دسمبر 2026 سے فروری 2027 تک جاری رکھنے کا پروگرام ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایسی اہل خواتین کی نشاندہی کرنا ہے جن کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ابھی نہیں بنے یا جو شناختی کارڈ رکھنے کے باوجود انتخابی فہرست میں درج نہیں۔ مقامی سماجی کارکن اور شمار کنندگان گھر گھر جا کر معلومات جمع کریں گے اور شماریاتی بلاکس کی بنیاد پر فہرستیں تیار کریں گے۔ ساتھ ہی ووٹر رجسٹریشن اور شناختی دستاویزات کی اہمیت سے متعلق آگاہی سرگرمیاں بھی چلائی جائیں گی۔

منصوبے میں نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی، نادرا، کی موبائل رجسٹریشن وینز استعمال کرنے کا انتظام بھی شامل ہے تاکہ اہل خواتین کو ان کے علاقوں کے قریب شناختی کارڈ کے حصول کی سہولت دی جا سکے۔ اس کے علاوہ سرکاری عمارتوں میں سہولت مراکز قائم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے قصور میں 115,689 اور قمبر شہدادکوٹ میں 59,156 خواتین کی رجسٹریشن میں سہولت فراہم کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں ان علاقوں کو ترجیح دی جائے گی جہاں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں فرق نسبتاً زیادہ ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے نمائندوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور مقامی برادریوں کو بھی اس مہم میں شریک کیا جائے گا۔

پاکستان میں انتخابی فہرستوں کا صنفی فرق ایک دیرینہ انتظامی اور سماجی مسئلہ رہا ہے، جس کا تعلق شناختی کارڈ کے حصول، رسائی، نقل و حرکت اور آگاہی سمیت مختلف عوامل سے ہے۔ موجودہ منصوبہ دو اضلاع تک محدود پائلٹ اقدام ہے اور اس کے نتائج مستقبل میں وسیع تر حکمت عملی کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔ منصوبے کی کامیابی کا عملی اندازہ اس بات سے ہوگا کہ شناخت شدہ اہل خواتین میں سے کتنی نادرا دستاویزات مکمل کر کے انتخابی فہرستوں میں شامل ہوتی ہیں۔