قاہرہ: مصر کی پارلیمان نے صدر عبدالفتاح السیسی کو سعودی عرب کے دفاع میں فوجی مدد فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر بڑھتے حملوں اور خطے میں وسیع ہوتی کشیدگی کے پس منظر میں کیا گیا۔ رائٹرز اور ڈان کی رپورٹ کے مطابق مصری قیادت نے واضح کیا ہے کہ ممکنہ فوجی کردار دفاعی نوعیت کا ہوگا اور سعودی سرزمین اور سرحدوں کے تحفظ تک محدود رہے گا۔

صدر السیسی نے گزشتہ ہفتے پارلیمان سے اجازت مانگی تھی کہ اگر ریاض حوثی حملوں کے خلاف مدد کی درخواست کرے تو مصر اپنے خلیجی اتحادی کے دفاع میں تعاون کر سکے۔ مصر کے سرکاری اخبار الاہرام کے مطابق ایوانِ نمائندگان نے صدر کو سعودی عرب کی حمایت کے لیے ضروری اقدامات اختیار کرنے کی اجازت دے دی۔ تاہم کسی باقاعدہ سعودی درخواست یا مصری فوجی دستوں کی فوری تعیناتی کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

اس فیصلے کی اہمیت باب المندب اور بحیرہ احمر کی سلامتی سے بھی جڑی ہے۔ حوثی پیش قدمی اور حملے اس سمندری راستے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں جو مصر کی نہر سوئز تک رسائی کا اہم دروازہ ہے۔ سعودی عرب پر حالیہ حملوں میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی شامل رہے ہیں، جس سے پروازوں اور تیل کی ترسیل پر دباؤ بڑھا ہے۔

مصر ماضی میں بھی یمن تنازع کے ایک مرحلے میں سعودی قیادت والے اتحاد کا حصہ رہا تھا۔ 2015 میں قاہرہ نے بنیادی طور پر بحری کردار ادا کرتے ہوئے بحیرہ احمر کی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے جنگی جہاز بھیجے تھے اور محدود زمینی موجودگی بھی رہی۔ اس تاریخی تجربے کے باعث موجودہ حکومت براہِ راست وسیع زمینی جنگ میں شمولیت کے معاملے پر محتاط دکھائی دیتی ہے۔

مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے حالیہ دنوں میں سفارتی حل تلاش کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ مصر نے مکہ باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور جاری رکھنے کی بات کی ہے، لیکن فی الحال اس کا رکن نہیں۔ موجودہ پارلیمانی اجازت اس لیے مکمل جنگی شمولیت کے مترادف نہیں؛ اس سے صدر کو ضرورت پڑنے پر سعودی دفاع میں اقدامات کی قانونی و سیاسی گنجائش دی گئی ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار سعودی درخواست، میدان کی صورتحال اور قاہرہ کے طے کردہ دفاعی دائرہ کار پر ہوگا۔