قاہرہ: مصر کی پارلیمان نے صدر عبدالفتاح السیسی کو سعودی عرب کے دفاع میں مدد کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی اجازت دے دی ہے، یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے ایران سے منسلک حوثی گروپ کے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس منظوری سے قاہرہ سعودی دفاع میں زیادہ براہ راست کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم مصری قیادت نے اپنی حمایت کی حدود بھی واضح کی ہیں۔

صدر السیسی نے کہا ہے کہ مصر کی ممکنہ فوجی حمایت سعودی عرب کی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود ہوگی اور اس کا مقصد یمن کے اندر جارحانہ کارروائی کرنا نہیں ہے۔ اس فرق کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ موجودہ کشیدگی میں متعدد علاقائی طاقتیں ایک جانب سعودی سلامتی کے تحفظ کی بات کر رہی ہیں اور دوسری جانب وسیع تر جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پارلیمانی اجازت ایسے ماحول میں دی گئی ہے جب سعودی عرب پر ڈرون اور دیگر حملوں نے خلیجی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ مصر اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی تعاون موجود ہے، جبکہ ریاض قاہرہ کے اہم علاقائی شراکت داروں میں شمار ہوتا ہے۔ تازہ اقدام اس تعاون کے دفاعی پہلو کو نمایاں کرتا ہے، لیکن اس مرحلے پر کسی مخصوص مصری فوجی تعیناتی، دستوں کی تعداد یا عملی کارروائی کی تفصیلات کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اسی دوران پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام نے تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی راستہ برقرار رکھنے کی کوشش کی جا سکے۔ یہ سفارتی سرگرمی اور مصر کی دفاعی منظوری بیک وقت جاری علاقائی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں، جس میں سعودی عرب کے دفاع کے ساتھ تصادم کو مزید پھیلنے سے روکنا بھی اہم مقصد ہے۔

حوثی گروپ یمن کی جنگ اور خطے کے وسیع تر تنازعات میں ایک اہم مسلح فریق رہا ہے اور اسے ایران کا اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ حملوں اور جوابی تیاریوں سے متعلق فریقین کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ہر واقعے میں فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی۔ مصری پارلیمان کا فیصلہ تاہم ایک باضابطہ سیاسی اجازت ہے؛ اسے خودکار طور پر یمن میں مصری جنگی کارروائی کے آغاز کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ قاہرہ نے دفاعی دائرہ کار کی بات کی ہے۔