مقبوضہ مغربی کنارہ: اقوام متحدہ نے الخلیل میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پورے محلوں کو خالی کرنے اور مٹانے کی دھمکیاں ’نسلی صفائی‘ کے سنگین خدشات پیدا کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کا بیان اس کارروائی کے دوران ہزاروں فلسطینیوں کی نقل مکانی اور گھروں و تجارتی املاک کی مسماری کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے۔

الخلیل کی بلدیہ کے مطابق جاری کارروائی کے دوران 3,189 افراد کو اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے یہ کارروائی جمعے کو ایک چوکی کے قریب دو فلسطینی مسلح افراد کے حملے کے بعد شروع کی، جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں حملہ آور بعد میں فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔ اسرائیلی فوجی عین دیر بہا نامی علاقے میں داخل ہوئے، جہاں حملہ آور رہتے تھے، اور مقامی رہائشیوں کو علاقہ چھوڑنے کے احکامات دیے گئے۔

وولکر ترک نے کہا کہ کارروائی کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی، رہائشی اور تجارتی املاک کی تباہی اور لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندیاں سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق اٹھائے گئے وسیع اقدامات غیر ضروری اور غیر متناسب طاقت کے استعمال کے بارے میں سنگین سوالات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بے دخل کیے گئے افراد کو اپنے گھروں میں واپسی کی اجازت ہونی چاہیے اور غیر قانونی بے دخلی یا مسماری سے متاثرہ لوگوں کے لیے تلافی ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کے عہدیدار نے اسرائیلی حکام کے بعض بیانات کی روشنی میں اقدامات کو سزا پر مبنی قرار دیتے ہوئے اجتماعی سزا کے بین الاقوامی قانون سے متصادم ہونے کی نشاندہی کی۔ ’نسلی صفائی‘ کا حوالہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سربراہ کی تشویش اور انتباہ ہے؛ اسے کسی عدالت کے حتمی قانونی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیلی فوجی کارروائی اور اس کے قانونی جواز پر فریقین کے مؤقف مختلف ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی قاہرہ میں گفتگو کرتے ہوئے مغربی کنارے کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے فلسطینیوں کی زمینوں سے بے دخلی اور آبادکاروں کے تشدد میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک زیادہ جابرانہ ماحول بنتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور تنازع کے ایسے حل پر زور دیا ہے جو دیرپا امن کی بنیاد بن سکے۔