اسلام آباد: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام نے تہران میں ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران علاقائی کشیدگی کم کرنے، مکالمہ جاری رکھنے اور امن و سلامتی کے معاملات پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ڈان کی 27 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن شریک ہوئے، جبکہ ایرانی جانب سے صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سمیت اعلیٰ حکام نے بات چیت کی۔

ایرانی صدر نے سرکاری بیان میں ایسے کسی بھی فہم و مفاہمت کی حمایت کا اظہار کیا جس کا مقصد مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی مضبوط کرنا ہو۔ ملاقات سے پہلے آنے والے وفد نے محسن رضائی سے بھی الگ بات چیت کی، جس کے بعد چار علاقائی ممالک کے درمیان امن و سلامتی سمیت تعاون کے شعبوں میں مکالمہ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

یہ رابطے ایسے وقت ہوئے ہیں جب خطے میں یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور ایران کے گرد وسیع تر فوجی تناؤ کے خدشات موجود ہیں۔ سعودی وزارت خارجہ نے دورے کو کشیدگی کم کرنے، سفارتی حل کی حمایت کرنے اور پاکستان و قطر کی ثالثی کوششوں کو تقویت دینے کی جاری کوششوں کا حصہ قرار دیا۔ قطر کا ایک وفد بھی اس سے پہلے تہران گیا تھا، جس سے مختلف سفارتی کوششوں کے درمیان رابطے کا اشارہ ملتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق زیرِ بحث امور میں ممکنہ علاقائی عدم جارحیت کے انتظام، امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی، حوثی حملوں کو روکنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے جیسے موضوعات شامل تھے۔ تاہم دو گھنٹے کے قریب جاری رہنے والی ملاقات کے بعد ان نکات پر کسی حتمی سمجھوتے یا باضابطہ معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے مذاکرات کو کسی طے شدہ سیاسی یا سلامتی معاہدے کے بجائے جاری سفارتی عمل کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

پاکستان کے لیے یہ سفارتی کوشش ایک ایسے توازن کا حصہ ہے جس میں اسلام آباد سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری برقرار رکھتے ہوئے ہمسایہ ایران کے ساتھ رابطے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان اس سے قبل واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے میں سہولت فراہم کرنے کی کوشش بھی کرتا رہا ہے۔ موجودہ ملاقات کا فوری نتیجہ مکالمے کے تسلسل پر اتفاق ہے، جبکہ عملی پیش رفت کا انحصار آئندہ رابطوں اور خطے میں زمینی صورتحال پر ہوگا۔