مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے واضح کیا ہے کہ اگر سعودی عرب کی درخواست پر مصر فوجی مدد فراہم کرتا ہے تو اس کا دائرہ مملکت کی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود ہو گا اور یمن کے خلاف حملہ اس کارروائی کا حصہ نہیں ہو گا۔ رائٹرز کے مطابق مصری ایوان صدر کے ترجمان نے بدھ کو صدر کا یہ مؤقف جاری کیا۔

یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن کے ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے بعد قاہرہ میں ممکنہ فوجی کردار پر بحث جاری ہے۔ مصر کی پارلیمان نے مسلح افواج کو سعودی عرب کی مدد کے لیے اختیار دینے سے متعلق ووٹنگ 26 اکتوبر تک مؤخر کر دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانونی اور سیاسی سطح پر مشاورت ابھی جاری ہے۔

السیسی نے کہا کہ مصر کسی دوسرے عرب ملک کی سرزمین کے دفاع کے لیے بھی درخواست پر مدد فراہم کر سکتا ہے، لیکن فوجی کارروائی مصر یا اس عرب ملک کی سرحدوں سے باہر جارحانہ مہم تک نہیں بڑھے گی۔ انہوں نے خلیجی ریاستوں کی سلامتی کو مشترکہ عرب قومی سلامتی کا حصہ قرار دیا۔

سعودی عرب کو حالیہ دنوں میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی آرامکو سے متعلق تنصیبات سمیت مختلف اہداف پر حوثی حملوں کا سامنا رہا ہے۔ اس پس منظر میں مصر کی ممکنہ شرکت علاقائی کشیدگی میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم ابھی مصری پارلیمان کی اجازت اور سعودی عرب کی باضابطہ درخواست جیسے مراحل باقی ہیں۔

مصر 2015 میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے قائم سعودی قیادت والے اتحاد کا حصہ رہا ہے۔ تازہ بیان قاہرہ کی موجودہ پوزیشن کی حدود متعین کرتا ہے: سعودی عرب کا دفاع ممکن ہے، لیکن یمن کے اندر جارحانہ کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ کسی عملی فوجی تعیناتی کی تصدیق متعلقہ حکومتوں کے باضابطہ فیصلوں کے بعد ہی ہو گی۔