مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے مصر کا ممکنہ فوجی کردار دفاعی نوعیت کا ہو گا اور اسے یمن پر حملے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ایکسپریس ٹریبیون کی تازہ رپورٹ کے مطابق مصری صدر نے علاقائی کشیدگی کے دوران قاہرہ کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے سعودی سرزمین کے دفاع اور یمن کے اندر جارحانہ کارروائی کے درمیان واضح فرق بیان کیا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کو یمن سے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا ہے اور خلیجی ممالک اپنی مشترکہ دفاعی تیاری اور رابطہ کاری بڑھا رہے ہیں۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے حالیہ دنوں میں مدینہ اور مشرقی صوبے کی سمت آنے والے ڈرونز کو روکنے کی اطلاعات دی ہیں، جبکہ یمن کے اندر حوثی فورسز اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے وابستہ فورسز کے درمیان لڑائی بھی جاری ہے۔

السیسی کا بیان مصر کی جانب سے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور دفاع کی حمایت کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی اس حمایت کی عملی حد بھی متعین کرتا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں مصر کی جانب سے کسی نئی فوجی تعیناتی، مخصوص فورس تعداد یا مشترکہ حملہ آور آپریشن کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اسے فوری جنگی شمولیت کے بجائے سیاسی اور دفاعی پالیسی کی وضاحت سمجھنا چاہیے۔

مصر اور سعودی عرب طویل عرصے سے قریبی سیاسی اور سکیورٹی تعلقات رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک بحیرہ احمر کی سلامتی، علاقائی استحکام اور عرب دنیا کے متعدد سفارتی معاملات پر تعاون کرتے رہے ہیں۔ یمن کی جنگ میں مصر نے ماضی میں سعودی اتحاد کی سیاسی حمایت کی، تاہم قاہرہ براہ راست زمینی جنگ میں بڑے پیمانے پر شمولیت سے محتاط رہا ہے۔

تازہ بیان اس تناظر میں اہم ہے کہ علاقائی کشیدگی کے دوران کسی بھی اتحادی فوجی تعاون کی نوعیت اور حدود غلط فہمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ مصری صدر نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کی حمایت کو یمن کے خلاف حملہ آور کردار کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ مستقبل میں کسی عملی دفاعی تعاون کی تفصیلات سامنے آئیں تو ان کی تصدیق مصری اور سعودی حکام کے باضابطہ اعلانات سے ضروری ہو گی۔