امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کو پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ملک کی جغرافیائی پوزیشن اور علاقائی کردار واشنگٹن کے مفادات کے لیے اہم ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق روبیو نے پاکستان کے ساتھ رابطے کی ضرورت کو علاقائی حقیقت پسندی سے جوڑا اور اس کا موازنہ بھارت کے ایران کے ساتھ تعلقات سے کیا۔

روبیو کا بیان امریکا کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان اور بھارت کے ساتھ الگ الگ تعلقات رکھنے کے دیرینہ طریقہ کار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ واشنگٹن نئی دہلی کے ساتھ دفاع، تجارت اور ٹیکنالوجی میں وسیع شراکت داری رکھتا ہے، لیکن پاکستان بھی افغانستان، وسطی ایشیا، چین، ایران اور بحیرہ عرب کے سنگم کے قریب واقع ہونے کے باعث امریکی خارجہ پالیسی میں جغرافیائی اہمیت رکھتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے اس نکتے پر زور دیا کہ ایک ملک کے ساتھ قریبی تعلق دوسرے علاقائی ملک کے ساتھ سفارتی رابطے کو خارج نہیں کرتا۔ بھارت کے ایران سے روابط کا حوالہ اسی دلیل کے لیے دیا گیا کہ ریاستیں اپنے جغرافیائی اور معاشی مفادات کے مطابق متعدد شراکت داروں سے تعلقات برقرار رکھتی ہیں۔ اس بیان کو کسی نئے دفاعی اتحاد یا مخصوص معاہدے کا اعلان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

پاکستان اور امریکا کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں میں سکیورٹی تعاون، افغانستان، انسداد دہشت گردی، تجارت اور علاقائی سیاست کے باعث اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے معاشی روابط، انسداد دہشت گردی اور سفارتی رابطوں کو جاری رکھا ہے، جبکہ چین کے ساتھ پاکستان کی قریبی شراکت داری اور بھارت امریکا تعلقات بھی وسیع علاقائی پس منظر کا حصہ ہیں۔

روبیو کا تازہ بیان بنیادی طور پر امریکی پالیسی کی اس ضرورت کو واضح کرتا ہے کہ واشنگٹن جنوبی ایشیا میں اپنے تعلقات کو صفر جمع کے اصول پر نہ دیکھے۔ مستقبل میں پاکستان امریکا تعلقات کی سمت کا تعین عملی سفارتی رابطوں، تجارتی فیصلوں، سلامتی تعاون اور علاقائی بحرانوں پر دونوں حکومتوں کے اقدامات سے ہو گا، نہ کہ صرف ایک بیان سے۔