برطانیہ کے قومی موسمیاتی ادارے میٹ آفس نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں سال کا ایل نینو ایک صدی سے زیادہ عرصے میں سب سے شدید ہوسکتا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ادارے کے طویل مدتی پیش گوئی کے سربراہ ایڈم سکیف نے کہا کہ ماڈل استوائی مشرقی بحرالکاہل میں درجہ حرارت کے فرق کو تین ڈگری سے اوپر عروج تک جاتے دکھا رہے ہیں، جسے انہوں نے جدید موسمیاتی ریکارڈ میں غیر معمولی قرار دیا۔
ایل نینو اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب استوائی مشرقی بحرالکاہل کی سطح سمندر کا درجہ حرارت بنیادی اوسط سے کم از کم نصف ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہوجائے۔ یہ تبدیلی ہواؤں، فضائی دباؤ اور بارش کے عالمی نمونوں کو متاثر کرتی ہے اور مجموعی عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ موجودہ پیش گوئی اسی نظام کے ایک بہت طاقتور مرحلے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق خطے میں حرارت پہلے ہی معمول سے تقریباً 2.6 ڈگری زیادہ چل رہی ہے، جبکہ میٹ آفس کے ماڈل میں عروج تین ڈگری سے اوپر ہوسکتا ہے۔ یہ پیمائش فوری روزانہ موسم کی پیش گوئی نہیں بلکہ طویل مدت تک قائم رہنے والے سمندری اور فضائی حالات کی علامت ہے۔ ماڈل کا نتیجہ حتمی مشاہدہ نہیں؛ شدت کی اصل مقدار آنے والے مہینوں کے ریکارڈ سے واضح ہوگی۔
ایڈم سکیف کے مطابق شدید اثرات خاص طور پر استوائی خطوں میں سامنے آسکتے ہیں، جن میں جنوبی امریکا اور مغربی بحرالکاہل کے بعض حصوں میں خشک سالی کا خطرہ شامل ہے۔ انہوں نے خوراک اور غذائی تحفظ پر ممکنہ اثرات کا بھی ذکر کیا۔ برطانیہ میں نومبر کے قریب زیادہ بارش اور طوفانی حالات کا امکان بیان کیا گیا، لیکن ہر ملک کے مقامی اثرات الگ موسمی نظام اور علاقائی پیش گوئی سے طے ہوں گے۔
پاکستان کے لیے موجودہ ڈان رپورٹ میں کوئی مخصوص بارش، درجہ حرارت یا فصلوں کا عددی تخمینہ نہیں دیا گیا۔ اس لیے اس عالمی پیش گوئی کو پاکستان میں کسی طے شدہ سیلاب، خشک سالی یا فصل نقصان کے اعلان کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ قومی اور صوبائی اداروں کی علاقائی پیش گوئیاں سامنے آنے پر ہی مقامی خطرے کی درست تشریح ممکن ہوگی۔
اردو ہیڈ لائنز میٹ آفس کی پیش گوئی، اس کے بیان کردہ عالمی اثرات اور موجودہ سمندری حرارت تک خبر کو محدود رکھ رہا ہے۔ نئے مشاہدات، عالمی موسمیاتی اداروں کی تازہ درجہ بندی یا پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کی علاقائی رہنمائی جاری ہونے پر رپورٹ کو الگ تصدیق کے ساتھ اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔




