بلوچستان میں پٹ فیڈر کینال کے ریموڈلنگ منصوبے کے پیکیج ون پر پیش رفت کے دوران چار کلومیٹر حصے سے گاد نکالنے کا کام مکمل ہوگیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی ویلتھ پاکستان دستاویزات پر مبنی رپورٹ کے مطابق اس پیکیج کی لاگت 15 ارب 75 کروڑ روپے ہے اور اس کا مقصد نہری نظام کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔
دستاویزات کے مطابق صفائی کے ساتھ نہر کی تہہ سے رکاوٹیں بھی ہٹائی گئی ہیں۔ ایک کلومیٹر حصے میں کنکریٹ لائننگ مکمل ہوئی، جبکہ 2.3 کلومیٹر پر نہر کے کنارے تیار کیے گئے۔ سات کلومیٹر حصے میں نہر کا عارضی رخ تبدیل کرنے کا کام جاری ہے تاکہ مرکزی تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے جگہ بنائی جاسکے۔
منصوبے کے ابتدائی اور تکنیکی مراحل میں مشترکہ سروے، تعمیر سے پہلے کا سروے، ابتدائی رہائشی سہولت، لیبارٹریوں کا قیام اور اہم اجزا کی ڈرائنگز جاری کرنے کا عمل مکمل بتایا گیا ہے۔ زمین کے حصول کا سروے بھی مکمل ہوچکا ہے، تاہم ایوارڈ کا عمل ابھی جاری ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کچھ انتظامی مراحل مکمل ہونے کے باوجود پورا پیکیج ابھی تکمیل تک نہیں پہنچا۔
نہر کے راستے میں شناخت کیے گئے دو سو سے زیادہ تجاوزاتی مکانات ہٹائے گئے ہیں۔ رپورٹ اس کارروائی کی تعداد بتاتی ہے مگر متاثرہ خاندانوں کی آبادکاری، معاوضے یا اپیلوں کی تفصیلی صورت حال فراہم نہیں کرتی۔ اس لیے ان سماجی پہلوؤں کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ موجودہ دستاویز سے اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
پٹ فیڈر کینال کی ریموڈلنگ کا وسیع مقصد آبپاشی کی استعداد بڑھانا، پانی کے ضیاع میں کمی اور بلوچستان کی زرعی زمینوں تک زیادہ قابلِ اعتماد فراہمی یقینی بنانا ہے۔ کنکریٹ لائننگ اور نہر کی صفائی اسی مقصد کے عملی اجزا ہیں، لیکن زرعی پیداوار یا پانی کی دستیابی میں حقیقی تبدیلی منصوبے کی مکمل تکمیل اور بعد کے بہاؤ کے اعداد سے جانچی جائے گی۔
اردو ہیڈ لائنز پیکیج کی موجودہ جسمانی پیش رفت، لاگت اور مکمل شدہ کام تک رپورٹ کو محدود رکھتا ہے۔ آئندہ قابلِ نگرانی نکات میں مزید لائننگ، زمین کے حصول کا ایوارڈ، سات کلومیٹر ڈائیورژن کی تکمیل اور پورے ریموڈلنگ نظام کی تصدیق شدہ ٹائم لائن شامل ہیں۔




