پاکستان میں جاری فیوچر لیڈرشپ انٹرن شپ پروگرام کے پانچویں ہفتے میں جیو اسپیشل ڈیٹا پر مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے استعمال کے ساتھ موسمیاتی سائنس اور پالیسی پر آن لائن تربیت منعقد ہوئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے منتظم ادارے کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ طلبہ، گریجویٹس اور ابتدائی کیریئر کے شرکا نے تکنیکی سیشن اور ماہرین کے ویبینار میں حصہ لیا۔
AI اور مشین لرننگ کے سیشن میں فیچرز اور لیبلز، تربیتی اور ٹیسٹ ڈیٹا، کلاسیفیکیشن، ریگریشن، ماڈل کی پیش گوئی، توثیق اور درستگی جانچنے جیسے بنیادی تصورات بیان کیے گئے۔ زمینی غلاف کی درجہ بندی کو عملی مثال کے طور پر استعمال کیا گیا، جہاں سیٹلائٹ یا جغرافیائی ڈیٹا سے مختلف اقسام کی زمین شناخت کی جا سکتی ہیں۔ خبر میں کسی تیار ماڈل کی درستگی، ڈیٹا سیٹ کا حجم یا آزاد تکنیکی نتیجہ نہیں دیا گیا۔
دوسرے سیشن میں موسمیاتی سائنس، پیرس معاہدے اور قومی سطح پر پالیسی کے نفاذ پر گفتگو ہوئی۔ گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عارف گوہر نے عالمی موسمیاتی حکمرانی، آرٹیکل 6.4، ٹیکنالوجی ایگزیکٹو کمیٹی، آئی پی سی سی اور اقوام متحدہ کے موسمیاتی فریم ورک جیسے موضوعات پر بات کی۔ یہ تعلیمی گفتگو تھی، کسی نئی سرکاری پالیسی یا بین الاقوامی وعدے کی منظوری نہیں۔
جیو اسپیشل AI سیلاب، خشک سالی، زمینی استعمال اور موسمی خطرات کے نقشوں میں مدد دے سکتا ہے، لیکن نتیجے کا معیار بنیادی ڈیٹا، مقامی زمینی تصدیق اور ماڈل کی شفاف جانچ پر منحصر رہتا ہے۔ تربیتی مثال کو عملی سرکاری پیش گوئی یا ہنگامی انتباہ کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔ غلط یا نامکمل ڈیٹا سے نقشہ بندی میں کمزور علاقوں اور آبادیوں کی غلط نمائندگی ہو سکتی ہے۔
منتظمین کے مطابق آٹھ ہفتوں پر مشتمل ورچوئل پروگرام میں GIS، ریموٹ سینسنگ، AI، مشین لرننگ، موسمی خطرے کی جانچ اور ہیزرڈ میپنگ شامل ہیں۔ پانچواں ہفتہ مکمل ہونے کے بعد مزید تکنیکی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا منصوبہ ہے۔ موجودہ خبر میں شرکا کی حتمی تعداد، انتخاب کا طریقہ، تکمیل کی شرح یا ملازمت اور تحقیق پر پروگرام کے اثرات کے قابلِ پیمائش اعداد شامل نہیں۔
یہ رپورٹ 20 اگست 2026 کو APP میں شائع منتظمین کے بیان تک محدود ہے۔ اردو ہیڈ لائنز تربیت کے آئندہ نتائج، تیار کردہ اوپن ڈیٹا یا ماڈل، آزاد ماہر جانچ اور کسی سرکاری موسمیاتی منصوبے میں عملی استعمال کی تصدیق سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔ فی الحال اسے صلاحیت سازی کی سرگرمی سمجھا جانا چاہیے، کسی موسمیاتی خطرے کی تازہ پیش گوئی یا مکمل تکنیکی کامیابی نہیں۔




