عمان کے ساحل کے قریب پھنسے ہوئے ایک آئل ٹینکر سے تیل کا مسلسل اخراج خطے کے لیے بڑے ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں آئے اس بحری جہاز کیرولین بیزنگی پر عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق روسی خام تیل کے لگ بھگ آٹھ لاکھ بیرل موجود تھے۔ جہاز 30 جون کو عمان کے اس جزیرے کے قریب پھنس گیا تھا جو ایک محفوظ سمندری قدرتی علاقے کا حصہ ہے، اور اس سے قبل جون ہی میں یمن کے قریب اسے مشکلات پیش آنے کی اطلاع دی گئی تھی۔
تیل کے پھیلاؤ کے حجم سے متعلق مختلف ذرائع کے اندازے ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں، اور اس رپورٹ میں ہر عدد اپنے حوالے کے ساتھ درج کیا جا رہا ہے۔ عمانی حکام نے 10 اگست کو بتایا تھا کہ تیل کی تہہ تقریباً 400 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیل چکی ہے۔ اس کے دو روز بعد خبر رساں ادارے روئٹرز نے سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لینے والے ماہر جان ایموس کے حوالے سے کہا کہ متاثرہ رقبہ دو ہزار مربع کلومیٹر سے تجاوز کر چکا ہے۔ دوسری جانب ماحولیاتی تنظیم گرین پیس نے گزشتہ ہفتے یہ تخمینہ تقریباً 600 مربع کلومیٹر لگایا تھا۔ ان اختلافات کی بڑی وجہ پیمائش کے مختلف طریقے اور مشاہدے کے الگ الگ اوقات بتائے جاتے ہیں، اس لیے کسی ایک عدد کو حتمی قرار دینا ابھی ممکن نہیں۔
عمان کے ماحولیاتی ادارے نے تصدیق کی ہے کہ کیرولین بیزنگی سے خارج ہونے والا تیل سلطنت کے وسطی ساحل کے ساحلی علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔ جس سمندری محفوظ علاقے کے قریب یہ حادثہ پیش آیا، وہاں بحیرۂ عرب کی ہمپ بیک وہیل اور سوکوترا کورمورنٹ سمیت کئی نایاب سمندری اور ساحلی انواع پائی جاتی ہیں، جن کے مساکن کو اس آلودگی سے براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔ ماہرین کے مطابق کھلے سمندر میں پھیلنے والا خام تیل نہ صرف آبی حیات کی سانس اور خوراک کے نظام کو متاثر کرتا ہے بلکہ ساحلی چٹانوں اور ریتیلے علاقوں میں جذب ہو کر طویل مدت تک ماحول پر اثرانداز رہتا ہے۔
بحری خطرات پر نظر رکھنے والی کمپنی ایمبری کے مطابق جہاز کو محفوظ بنانے اور مزید اخراج روکنے کے لیے سالویج یعنی بچاؤ کی کارروائی کا آغاز اگست کے وسط میں کیا گیا۔ تاہم ابتدائی ہفتوں میں تیل بڑی حد تک بغیر روک ٹوک پھیلتا رہا، جس کے باعث صفائی کا کام اب زیادہ مشکل اور مہنگا ہو چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ جہاز اس بحری بیڑے کا حصہ سمجھا جاتا ہے جسے پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور ایسے جہازوں کی دیکھ بھال، بیمہ اور نگرانی کے بارے میں ماہرین پہلے ہی تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
یہ واقعہ خلیج اور بحیرۂ عرب کے مصروف بحری راستوں میں ماحولیاتی خطرات کی جانب ایک بار پھر توجہ دلاتا ہے۔ پاکستان سمیت خطے کے ساحلی ممالک کے لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ بحیرۂ عرب کی آبی حیات اور ماہی گیری کے ذرائع باہم جڑے ہوئے ہیں۔ اردو ہیڈ لائنز ڈیسک اس معاملے پر مستند بین الاقوامی ذرائع کی روشنی میں نظر رکھے ہوئے ہے اور نئی تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر رپورٹ کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔




