انڈس ریور سسٹم اتھارٹی، ارسا، نے 18 اگست کو ملک کے مختلف رم اسٹیشنوں پر پانی کی مجموعی آمد 3 لاکھ 61 ہزار کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 37 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا ہے۔ ارسا کے جاری کردہ یومیہ اعداد پانی کے بڑے ذخائر اور دریائی مقامات پر ایک مخصوص وقت کی صورت حال دکھاتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر نظام میں دستیاب پانی اور مختلف سمتوں میں اخراج کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
اعداد کے مطابق دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1,550 فٹ تھی، جو 1,402 فٹ کی ڈیڈ لیول سے 148 فٹ بلند ہے۔ تربیلا میں پانی کی آمد 2 لاکھ 33 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 32 ہزار 600 کیوسک بتایا گیا۔ آمد اور اخراج میں معمولی فرق اس روز کے آپریشنل توازن کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم ذخیرے کی مجموعی کیفیت جانچنے کے لیے مسلسل کئی دن کے اعداد اور متعلقہ موسمی صورت حال بھی دیکھی جاتی ہے۔
دریائے جہلم پر منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1,212.50 فٹ ریکارڈ ہوئی، جو 1,050 فٹ کی ڈیڈ لیول سے 162.50 فٹ زیادہ ہے۔ منگلا میں آمد 29 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 7 ہزار کیوسک بتایا گیا۔ ایک دن کے اس فرق کو ذخیرے میں تبدیلی کے مکمل تخمینے کے طور پر نہیں پڑھا جا سکتا کیونکہ بارش، بالائی بہاؤ، نہری طلب اور ڈیم آپریشن کے فیصلے روزانہ کی بنیاد پر بدل سکتے ہیں۔
دریائے سندھ کے دوسرے اہم مقامات پر کالا باغ سے 3 لاکھ 55 ہزار 400، تونسہ سے 3 لاکھ 18 ہزار 600، گدو سے 2 لاکھ 37 ہزار اور سکھر سے 1 لاکھ 39 ہزار 200 کیوسک پانی کے اخراج کی اطلاع دی گئی۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر 31 ہزار 500 کیوسک اور دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر 41 ہزار 200 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد مختلف مقامات پر ایک ہی پانی کے بہاؤ کو نظام کے الگ مراحل میں ظاہر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں جمع کرکے مجموعی اخراج سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
ارسا کے روزانہ کے اعداد آبپاشی کی دستیابی، ڈیموں کے انتظام اور صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے عملی فیصلوں کے لیے بنیادی حوالہ فراہم کرتے ہیں۔ کسانوں اور آبی منصوبہ بندی کے اداروں کے لیے ذخائر کی سطح کے ساتھ نہروں کی طلب، فصلوں کے مرحلے اور آئندہ بارشوں کی پیش گوئی بھی اہم رہتی ہے۔ اسی طرح زیادہ بہاؤ کے موسم میں متعلقہ قدرتی آفات کے اداروں اور صوبائی محکموں کی الگ ہدایات حفاظتی فیصلوں کے لیے دیکھی جاتی ہیں۔
یہ رپورٹ ارسا کے ایک روزہ آپریشنل بلیٹن کی وضاحت ہے، سیلاب کی نئی وارننگ یا آنے والے دنوں کے بہاؤ کی پیش گوئی نہیں۔ پانی کی صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے تازہ فیصلوں کے لیے اگلے سرکاری بلیٹن، محکمہ موسمیات کی معلومات اور متعلقہ انتظامیہ کی ہدایات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔




