وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے قومی صاف ہوا پالیسی سے متعلق شراکت داروں کی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے مختلف سرکاری اداروں اور معاشی شعبوں کے درمیان مربوط قومی کوشش درکار ہے۔ ان کے مطابق صاف اور صحت مند ہوا کے ہدف کو صرف ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں سمجھا جاسکتا بلکہ نگرانی، ضابطوں پر عمل درآمد اور پالیسی اصلاحات کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔

ورکشاپ میں فضائی آلودگی کو انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔ وزیر نے مؤثر نگرانی اور ماحولیاتی معیار کے نفاذ کو ہوا کے معیار میں بہتری کے لیے بنیادی ضرورت بتایا۔ اس بیان میں کسی نئے قانونی حد، شہر وار آلودگی سطح یا فوری بجٹ کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے موجودہ پیش رفت کو پالیسی مشاورت اور عمل درآمد کی سمت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے صنعت، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں ایسی اصلاحات پر زور دیا جو اخراج کم کرنے میں مدد دے سکیں۔ انہوں نے برقی گاڑیوں کے فروغ کو حکومتی کوششوں کا حصہ قرار دیا، جبکہ صاف توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی فضائی آلودگی قابو کرنے کے لیے اہم بتایا۔ ان نکات کا عملی نتیجہ متعلقہ قواعد، سرمایہ کاری، نگرانی کے نظام اور ادارہ جاتی عمل درآمد سے جڑا ہوگا۔

قومی صاف ہوا پالیسی کی مؤثر نگرانی کے لیے قابل اعتماد پیمائش ضروری ہے۔ ہوا کے معیار کی مسلسل نگرانی سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آلودگی کن علاقوں اور اوقات میں زیادہ ہے، کن ذرائع کا حصہ نمایاں ہے اور اختیار کی گئی پالیسی سے قابل پیمائش تبدیلی آرہی ہے یا نہیں۔ ورکشاپ میں مؤثر مانیٹرنگ پر زور اسی عمل کی اہمیت ظاہر کرتا ہے، تاہم رپورٹ میں نئے مانیٹرنگ اسٹیشنوں کی تعداد یا تنصیب کی تاریخ نہیں دی گئی۔

وزیر نے عوامی آگاہی کو بھی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا۔ شہری آگاہی اخراج کم کرنے، صاف سفری ذرائع اختیار کرنے اور مقامی سطح پر ماحول دوست اقدامات کی حوصلہ افزائی کرسکتی ہے، لیکن بڑے پیمانے پر بہتری کے لیے صنعت، ایندھن، ٹرانسپورٹ، توانائی اور شہری منصوبہ بندی کے فیصلے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

ورکشاپ سے سامنے آنے والا مرکزی پیغام یہ ہے کہ صاف ہوا کا ہدف پالیسی عبارت سے آگے بڑھ کر نگرانی، واضح ذمہ داری، شعبہ وار اصلاحات اور قابل جانچ نتائج کا تقاضا کرتا ہے۔ اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ متعلقہ ادارے ترجیحات، اہداف، وقت کی حدود اور کارکردگی ناپنے کے طریقے واضح کریں تاکہ شہری یہ دیکھ سکیں کہ قومی پالیسی زمینی سطح پر ہوا کے معیار میں کس حد تک بہتری لاتی ہے۔ اردو ہیڈ لائنز ڈیسک اس وقت ورکشاپ میں بیان کردہ پالیسی سمت رپورٹ کر رہا ہے، کسی فوری ملک گیر بہتری کا دعویٰ نہیں۔