پاکستان اور ایتھوپیا نے زراعت کے شعبے میں دوطرفہ تعاون وسیع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا کے درمیان ملاقات میں زرعی تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، غذائی تحفظ اور مویشی بانی کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔
ملاقات میں ایک ایسے زرعی معاہدے یا ادارہ جاتی بندوبست کا امکان بھی زیرِ غور آیا جس سے دونوں ملکوں کے زرعی ادارے علم، تحقیق اور عملی تجربات کا باقاعدہ تبادلہ کر سکیں۔ فریقین نے فصلوں کی پیداوار، بیجوں کی تیاری، جدید زرعی مشینری، آبپاشی، مویشیوں کی افزائش اور زرعی پیداوار کی پراسیسنگ کو تعاون کے ممکنہ شعبوں کے طور پر شناخت کیا۔
ایتھوپیا کے سفیر نے اپنے ملک کی معیشت میں زراعت کی اہمیت اور حکومت کی گرین لیگیسی انیشی ایٹو کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کے مطابق یہ پروگرام شجرکاری تک محدود نہیں بلکہ زرعی ترقی، غذائی تحفظ، موسمیاتی مزاحمت اور سبز معیشت کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے اس پروگرام کا تجربہ پاکستان کے ساتھ بانٹنے اور پاکستانی زرعی کاروباروں کو ایتھوپیا میں سرمایہ کاری کے مواقع دیکھنے کی دعوت دی۔
پاکستانی جانب نے زرعی تحقیق، جدید کاشت کاری، مشینری، آبپاشی، مویشی بانی اور زرعی پراسیسنگ میں مقامی تجربے کو نمایاں کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار، موسمی حالات برداشت کرنے والی زراعت، بیجوں کی بہتری اور میکانائزیشن میں ایتھوپیا کے ساتھ تکنیکی تعاون کر سکتا ہے۔
گفتگو میں 2027 میں ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں مجوزہ عالمی موسمیاتی کانفرنس COP32 کی تیاریوں کا بھی ذکر ہوا۔ یہ حوالہ زرعی تعاون کو موسمیاتی موافقت سے جوڑتا ہے، کیونکہ خشک سالی، پانی کے دباؤ اور بدلتے موسم دونوں ملکوں کی خوراک اور دیہی معیشت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
اس ملاقات میں تعاون کے شعبے اور سمت تو طے ہوئی، لیکن کسی حتمی معاہدے، سرمایہ کاری رقم یا منصوبے کے آغاز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اگلا عملی مرحلہ تب واضح ہوگا جب متعلقہ وزارتیں اور زرعی ادارے مجوزہ تعاون کو تحریری پروگرام، مشترکہ ورکنگ طریقہ یا منصوبوں میں تبدیل کریں گے۔ تب تک اس پیش رفت کو دونوں ملکوں کی باقاعدہ زرعی شراکت کے لیے پالیسی سطح کا اتفاق سمجھا جائے گا۔




