وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے نیشنل بوٹینیکل گارڈن کی ترقی کے لیے اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پروگرام کے تحت 80 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر شذرہ منصب علی خان کھرل نے سینیٹ میں تحریری جواب کے ذریعے منصوبے کی موجودہ تیاری اور سابق تعمیراتی اخراجات کی تفصیل پیش کی۔
جواب کے مطابق ایک کنسلٹنٹ نے پہلے مرحلے کے لیے ماسٹر پلان، تفصیلی ڈیزائن، ڈرائنگز، انتظامی منصوبہ، کاروباری منصوبہ اور پی سی ون تیار کردیا ہے۔ پی سی ون ابھی منصوبہ بندی ڈویژن کی توثیق کے عمل میں ہے، جبکہ ٹینڈر دستاویزات حتمی شکل اختیار کرچکی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مالی مختص رقم کے باوجود مرکزی منظوری اور خریداری کے مراحل مکمل ہونا باقی ہیں۔
منصوبے کے لیے ضروری اسامیاں تخلیق ہونے اور پی سی ون منظور ہونے کے بعد نگرانی اور سرحدی دیوار کی حفاظت کے لیے مخصوص واچ اینڈ وارڈ عملہ بھرتی کیا جائے گا۔ موجودہ بیان میں ان اسامیوں کی تعداد، گریڈ، اشتہار یا بھرتی کی تاریخ درج نہیں، اس لیے اسے فوری ملازمتوں کا اعلان نہیں سمجھا جاسکتا۔
سینیٹ کو بتایا گیا کہ بوٹینیکل گارڈن اسلام آباد کا رقبہ 725 ایکڑ ہے۔ نیشنل زو کم بوٹینیکل گارڈن کی چار دیواری، ستونوں اور گرلز کی تعمیر جنوری 2018 میں شروع ہوکر جون 2019 میں مکمل ہوئی تھی، جس پر 10 کروڑ 34 لاکھ 94 ہزار روپے خرچ ہوئے۔ نیا 80 کروڑ روپے کا مختص بجٹ اس سابق دیوار کے خرچ سے الگ ترقیاتی مرحلہ ہے۔
بوٹینیکل گارڈن کی افادیت صرف تعمیر سے نہیں بلکہ پودوں کے مجموعے، سائنسی انتظام، پانی کے استعمال، عوامی رسائی اور طویل مدتی دیکھ بھال سے سامنے آئے گی۔ موجودہ پارلیمانی جواب ان نتائج کی ضمانت نہیں دیتا؛ یہ منصوبہ بندی، منظوری اور سکیورٹی تیاری کی موجودہ حالت بیان کرتا ہے۔
آئندہ قابلِ نگرانی پیش رفت میں پی سی ون کی توثیق، ٹینڈر کا اجرا، تعمیراتی پیکیج، ملازمین کی بھرتی اور پہلے مرحلے کی جسمانی تکمیل شامل ہیں۔ اردو ہیڈ لائنز 80 کروڑ روپے کی مختص رقم کو مکمل خرچ یا مکمل شدہ باغ قرار نہیں دے رہا اور ہر اگلے مرحلے کو الگ سرکاری ریکارڈ سے جانچے گا۔




