اسلام آباد: لکی گروپ اور قطر انرجی پر مشتمل انرگیس کنسورشیم نے پورٹ قاسم پر مجوزہ کثیر ملین ڈالر ایل این جی ٹرمینل منصوبہ ترک کر دیا ہے۔ کمپنی نے اس فیصلے کی وجوہات میں پاکستان کی توانائی پالیسی اور ضروریات میں بنیادی تبدیلی، منصوبے سے متعلق تقاضوں میں ردوبدل اور حکومت و متعلقہ اداروں کے ساتھ طویل عرصے سے حل طلب مالی اور پالیسی معاملات کا ذکر کیا ہے۔
پورٹ قاسم اتھارٹی نے دوسری جانب انرگیس کو آگاہ کیا ہے کہ اگر کمپنی 30 نومبر 2026 تک فائنل لیٹر آف انٹینٹ کو غیر مشروط طور پر قبول کرکے منصوبے کی تازہ حیثیت فراہم نہیں کرتی تو لیٹر آف انٹینٹ ختم اور دو ملین ڈالر کی ابتدائی کنسیشن فیس ضبط کی جا سکتی ہے۔ انرگیس نے وزیراعظم سے رابطہ کرکے دو ملین ڈالر واپس کرنے کی درخواست کی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ منصوبہ آگے نہ بڑھنے کی وجہ اس کی معاہداتی کوتاہی نہیں بلکہ تبدیل شدہ حالات اور سرکاری سطح پر حل طلب معاملات ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق قطر انرجی نے مجوزہ ٹرمینل کی گنجائش استعمال کرنے کے لیے ایل این جی کی فراہمی کا انتظام کیا تھا اور پاکستان میں گیس کی ترسیل کے لیے پائپ لائن گنجائش، ٹرمینل آپریشنز میں یکساں مواقع اور تھرڈ پارٹی ایکسس سے متعلق بعض شرائط پر وضاحت چاہی تھی۔ 2022 میں پاکستان نے نجی شعبے کے نئے ایل این جی ٹرمینلز کے لیے اپنی گنجائش کا حصہ حکومت کے لیے مختص رکھنے سے متعلق پابندیوں میں تبدیلی بھی کی تھی۔
اس کے باوجود اگلے برسوں میں منصوبہ حتمی سرمایہ کاری فیصلے تک نہ پہنچ سکا۔ انرگیس کے چیئرمین محمد علی ٹبہ نے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کہا کہ قومی توانائی ضروریات اور پالیسی ماحول اس وقت سے نمایاں طور پر بدل چکے ہیں جب منصوبہ پہلی مرتبہ تجویز کیا گیا تھا۔ کمپنی نے مارچ 2025 کی انٹیگریٹڈ انرجی اسٹڈی کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اگلے پانچ سال میں نئے ایل این جی ٹرمینلز کی ضرورت نہیں بتائی گئی تھی۔
کمپنی نے ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کو بھی منصوبے کی معاشی قابلیت متاثر کرنے والے عوامل میں شامل کیا ہے۔ انرگیس کے مطابق مئی 2020 میں عبوری لیٹر آف انٹینٹ جاری ہونے کے وقت ایل این جی پالیسی کے تحت نئے ٹرمینلز کو کمرشل آپریشن شروع ہونے سے پانچ سال کی ٹیکس چھوٹ دستیاب تھی، مگر جون 2021 میں نئے منصوبوں کے لیے یہ سہولت ختم کردی گئی۔
پورٹ قاسم اتھارٹی نے کمپنی کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو ملین ڈالر عام قابل واپسی ایڈوانس نہیں بلکہ متعلقہ پروجیکٹ گائیڈ لائنز کے تحت ابتدائی کنسیشن فیس ہے، جسے مقررہ شرائط پوری نہ ہونے پر ضبط کیا جا سکتا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق سروے، ڈیزائن، ماحولیاتی مطالعات، مالی انتظام اور ضروری سرکاری و ریگولیٹری منظوریوں سمیت متعدد ذمہ داریاں ڈویلپر پر عائد ہوتی ہیں۔
اس تنازع میں فی الحال انرگیس کا منصوبہ آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ اور پورٹ قاسم اتھارٹی کی آخری مہلت سامنے آئی ہے۔ دو ملین ڈالر فیس کی واپسی یا ضبطی اور فریقین کی معاہداتی ذمہ داریوں کا حتمی نتیجہ ابھی طے نہیں ہوا، اس لیے ان معاملات کو کسی حتمی قانونی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
