اسلام آباد: وفاقی وزیر پیٹرولیم نے ملک میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی ایک بڑی وجہ پاک ایران سرحد کی بندش کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت رسد کے متبادل ذرائع، خصوصاً سمندری راستے سے درآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ سرحدی تجارت میں تعطل نے ایسے وقت مارکیٹ کو متاثر کیا ہے جب گھریلو اور تجارتی صارفین پہلے ہی توانائی کی بلند لاگت کا سامنا کر رہے ہیں۔

وزیر کے مطابق ایران سے زمینی راستے کے ذریعے آنے والی ایل پی جی ملکی رسد میں کردار ادا کرتی رہی ہے اور سرحد کی بندش کے بعد دستیاب مقدار میں کمی نے قیمتوں پر دباؤ بڑھایا۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بندرگاہوں کے ذریعے ایل پی جی کی درآمد اور ترسیل کا انتظام بڑھایا جائے تاکہ مارکیٹ میں کمی کو پورا کیا جا سکے اور قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ محدود ہو۔

ایل پی جی پاکستان کے ان علاقوں اور صارفین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے جہاں پائپ لائن قدرتی گیس کی رسائی محدود ہے یا سردیوں میں گیس کی فراہمی ناکافی رہتی ہے۔ گھریلو صارفین کے علاوہ چھوٹے کاروبار، ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور بعض صنعتی سرگرمیاں بھی اس ایندھن پر انحصار کرتی ہیں۔ اس لیے رسد میں اچانک کمی کا اثر صرف سلنڈر کی خوردہ قیمت تک محدود نہیں رہتا بلکہ خدمات اور دیگر اشیا کی لاگت پر بھی منتقل ہو سکتا ہے۔

سرحدی راستے کی بندش کے بعد سمندری درآمد ایک متبادل ضرور ہے، تاہم اس میں شپنگ، بندرگاہی سہولیات، ذخیرہ اور اندرون ملک ترسیل کے اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے صرف درآمدی راستہ تبدیل کرنا فوری طور پر کم قیمت کی ضمانت نہیں دیتا۔ مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام کے لیے رسد کے حجم، درآمدی لاگت، مقامی پیداوار اور تقسیم کے نظام کو مجموعی طور پر دیکھنا ضروری ہوگا۔

حکومت کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ قیمتوں میں اضافے کو رسدی مسئلے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم ایل پی جی کی خوردہ قیمت عالمی نرخوں، شرح مبادلہ، ٹیکسوں، نقل و حمل اور مقامی مارکیٹ کے حالات سے بھی متاثر ہوتی ہے، اس لیے سرحدی بندش کو واحد سبب قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ وزیر نے اسے بڑی وجوہ میں شامل کیا ہے اور متبادل رسد بڑھانے کی کوشش کا ذکر کیا ہے۔

آئندہ دنوں میں قیمتوں کی سمت اس بات پر منحصر ہوگی کہ سمندری راستے سے اضافی ایل پی جی کتنی جلد اور کس لاگت پر دستیاب ہوتی ہے اور زمینی سرحدی تجارت کب معمول پر آتی ہے۔ فی الحال حکومت کا فوری ہدف رسد کا خلا کم کرنا اور صارفین پر بڑھتے ہوئے قیمت دباؤ کو محدود کرنا ہے۔