لاہور: پاکستان ریلوے نے فریٹ شعبے سے آمدن بڑھانے اور ملک کے بڑے تجارتی مراکز کے درمیان ریل کے ذریعے سامان کی نقل و حمل میں اضافہ کرنے کے لیے مال بردار آپریشنز کو وسعت دینے کی حکمت عملی پر کام تیز کر دیا ہے۔ منصوبے کا محور زیادہ قابل اعتماد فریٹ سروس، دستیاب ویگنوں اور انجنوں کا بہتر استعمال اور بندرگاہوں سے صنعتی و تجارتی مراکز تک کارگو کی ترسیل میں ریل کا حصہ بڑھانا ہے۔

پاکستان میں زیادہ تر اندرون ملک سامان سڑکوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جبکہ بھاری اور طویل فاصلے کے کارگو کے لیے ریلوے نسبتاً کم ایندھن استعمال کرنے والا متبادل فراہم کر سکتی ہے۔ کراچی کی بندرگاہوں سے پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں تک کنٹینرز، کوئلہ، پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر بڑی مقدار کے سامان کی ترسیل فریٹ آپریشنز کے لیے اہم کاروباری مواقع میں شامل ہے۔

ریلوے کی مالی کارکردگی میں فریٹ شعبہ اس لیے اہم ہے کہ مسافر ٹرینوں کے مقابلے میں بڑے حجم کے کارگو سے فی آپریشن زیادہ تجارتی آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے وقت کی پابندی، قابل اعتماد شیڈول، مناسب رولنگ اسٹاک، لوڈنگ اور ان لوڈنگ کی سہولت اور نجی کاروباری اداروں کے ساتھ طویل مدتی معاہدے ضروری ہوتے ہیں۔

حکام کی حکمت عملی میں موجودہ مال بردار راستوں پر کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ ایسے صنعتی صارفین کو بھی متوجہ کرنا شامل ہے جو اس وقت زیادہ تر سڑک کے ذریعے سامان منتقل کرتے ہیں۔ اگر ریلوے کارگو کے لیے قابل پیش گوئی سفر کا وقت اور مسابقتی نرخ فراہم کرتی ہے تو بڑی مقدار میں سامان منتقل کرنے والی کمپنیوں کے لیے ریل زیادہ پرکشش بن سکتی ہے۔

فریٹ آپریشنز کی توسیع کے لیے ریلوے انفراسٹرکچر کی حالت بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ مرکزی لائنوں پر مسافر اور مال بردار ٹرینیں ایک ہی ٹریک استعمال کرتی ہیں، جس کی وجہ سے شیڈولنگ اور رفتار کی حدود پیدا ہو سکتی ہیں۔ انجنوں، ویگنوں اور سگنلنگ نظام کی دستیابی بھی اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ریلوے روزانہ کتنی مال بردار ٹرینیں مؤثر طور پر چلا سکتی ہے۔

فریٹ میں اضافہ سڑکوں پر بھاری ٹرکوں کے دباؤ اور ایندھن کے استعمال کو کم کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے، لیکن یہ فائدہ اسی صورت میں حاصل ہوگا جب ریل سروس تجارتی صارفین کے لیے قابل اعتماد اور لاگت کے لحاظ سے مؤثر ہو۔ موجودہ منصوبہ آپریشنز بڑھانے کی حکمت عملی سے متعلق ہے؛ حقیقی مالی نتیجہ آئندہ فریٹ حجم، نرخوں، آپریٹنگ لاگت اور سروس کے معیار سے واضح ہوگا۔