برسلز: یورپی یونین نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق رکن ممالک کی نئی قومی پابندیوں کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پورے بلاک کے لیے ایک مشترکہ قانون پر مذاکرات مکمل کیے جا سکیں۔ یورپی کمیشن کے مطابق ایسے قومی مسودہ قوانین جو مستقبل کے ہم آہنگ یورپی ضوابط سے متوازی ہوں، انہیں 12 ماہ کے لیے مؤخر کیا جائے گا۔
اس فیصلے کا فوری اثر آسٹریا کے مجوزہ قانون پر پڑا ہے، جہاں حکومت 14 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانا چاہتی تھی۔ یورپی یونین کے قواعد کے تحت رکن ممالک کو ایسے مسودہ قوانین کمیشن کو مطلع کرنا ہوتے ہیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ وہ بلاک کے موجودہ یا مجوزہ ضوابط سے متصادم تو نہیں۔ کمیشن نے آسٹریا کے منصوبے کو فی الحال آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دی۔
یورپی کمیشن نے گزشتہ ماہ ایک مشترکہ فریم ورک تجویز کیا تھا جس کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی اور 15 سال کی عمر تک محدود اور زیر نگرانی رسائی کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ برسلز کا مؤقف ہے کہ اگر ہر ملک الگ الگ عمر کی حد اور قواعد نافذ کرے تو یورپی سنگل مارکیٹ میں مختلف نظام بن جائیں گے اور آن لائن پلیٹ فارمز کے لیے تعمیل پیچیدہ ہوجائے گی۔
کمیشن کے ترجمان تھامس رینئیر کے مطابق اب توجہ یورپی کڈز ایکٹ پر مذاکرات اور موجودہ قواعد کے مؤثر نفاذ پر مرکوز ہونی چاہیے۔ یورپی کمیشن کو امید ہے کہ رکن ممالک اور یورپی پارلیمنٹ آئندہ چند ماہ میں مشترکہ قانون پر اتفاق کرلیں گے۔ تاہم تمام قومی قوانین یکساں طور پر نہیں روکے جائیں گے، کیونکہ کچھ ممالک نے اپنی تجاویز یورپی سطح کی نئی قانون سازی سامنے آنے سے پہلے جمع کرائی تھیں۔
فرانس کے مجوزہ قانون میں کمیشن نے تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے، لیکن اسے مکمل طور پر روکنے کا امکان کم بتایا گیا ہے کیونکہ پیرس نے یورپی تجویز سے پہلے اطلاع دے دی تھی۔ یونان بھی پہلے سے تیار قواعد نافذ کرچکا ہے، جبکہ اٹلی اور سلوواکیہ سمیت بعض دیگر ممالک کی تجاویز پر کمیشن کے فیصلے ابھی باقی ہیں۔ یورپی سطح پر یہ بحث بچوں کے آن لائن تحفظ، پلیٹ فارم ذمہ داری، والدین کی نگرانی اور ڈیجیٹل خدمات کی یکساں مارکیٹ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
