اسلام آباد: مختصر ویڈیو پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے اپنی دوسری سہ ماہی 2026 کی کمیونٹی گائیڈ لائنز انفورسمنٹ رپورٹ میں بتایا ہے کہ اپریل سے جون کے دوران پاکستان میں 23,243,711 ویڈیوز پلیٹ فارم کے قواعد کی خلاف ورزی پر ہٹائی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں حذف کی گئی ویڈیوز میں سے 99.7 فیصد کی شناخت اور کارروائی پلیٹ فارم نے شکایت آنے سے پہلے خود کی، جبکہ 94.5 فیصد مواد پوسٹ ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر ہٹا دیا گیا۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس مدت کے دوران ویڈیو ریموول ریٹ 1.1 فیصد رہا۔ ٹک ٹاک نے مزید بتایا کہ نظرثانی کے بعد پاکستان میں 519,075 ویڈیوز بحال بھی کی گئیں۔ بحالی کا یہ عدد اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ابتدائی خودکار یا دیگر انفورسمنٹ فیصلوں کے بعد اپیل یا مزید جائزے کے نتیجے میں بعض مواد دوبارہ دستیاب کیا گیا۔

عالمی سطح پر اسی سہ ماہی میں 188.2 ملین سے زیادہ ویڈیوز ہٹائی گئیں۔ ٹک ٹاک کے مطابق خودکار شناختی ٹیکنالوجی عالمی ویڈیو ریموولز کے 99.5 فیصد میں استعمال ہوئی، جبکہ مزید جائزے کے بعد 6.26 ملین ویڈیوز بحال کی گئیں۔ عالمی سطح پر قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی 92.7 فیصد ویڈیوز پوسٹنگ کے 24 گھنٹوں کے اندر ہٹائی گئیں۔

رپورٹ میں جعلی اور کم عمر صارفین سے منسلک اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کے اعداد بھی شامل ہیں۔ ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ تین ماہ کے دوران دنیا بھر میں 146.8 ملین جعلی اکاؤنٹس ہٹائے گئے، جبکہ 13 سال سے کم عمر بچوں سے منسوب ہونے کے شبہے میں 26.8 ملین اکاؤنٹس بھی پلیٹ فارم سے نکالے گئے۔ یہ عالمی اعداد ہیں اور انہیں پاکستان کے مخصوص اکاؤنٹس کی تعداد نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

مواد کی اقسام کے لحاظ سے عالمی سطح پر حساس یا بالغ موضوعات 19.5 فیصد ریموولز کے ساتھ سب سے بڑی کیٹیگری رہے۔ ذہنی اور رویہ جاتی صحت سے متعلق مواد 16.1 فیصد، جسمانی نمائش اور جنسی نوعیت کے رویے 13.8 فیصد اور خطرناک سرگرمیوں یا چیلنجز سے متعلق مواد 13.5 فیصد رہا۔ ایڈیٹ شدہ میڈیا اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد عالمی ریموولز کا 1.8 فیصد بتایا گیا۔

ٹک ٹاک کی سہ ماہی انفورسمنٹ رپورٹس پلیٹ فارم کی مواد نگرانی، اکاؤنٹ انفورسمنٹ اور خودکار نظام کے استعمال کی مجموعی تصویر فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان میں 2 کروڑ سے زیادہ ویڈیوز کا ہٹایا جانا آن لائن مواد کی نگرانی کے حجم کو ظاہر کرتا ہے، تاہم صرف حذف شدہ مواد کی تعداد سے کسی ملک میں نقصان دہ مواد کی مجموعی شرح یا صارفین کے رویے پر قطعی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ پلیٹ فارم کے استعمال، اپ لوڈز کے حجم اور انفورسمنٹ طریقوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔