اسلام آباد: پاکستان عالمی ادارہ برائے دانشورانہ املاک (WIPO) کے گلوبل انوویشن انڈیکس 2026 میں چار درجے بہتری کے ساتھ 139 معیشتوں میں 95ویں مقام پر آگیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق تازہ اشاریے میں پاکستان کو ان معیشتوں میں شمار کیا گیا ہے جو اپنی معاشی ترقی کی سطح کے مقابلے میں جدت کے میدان میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔

گلوبل انوویشن انڈیکس ہر سال مختلف ممالک کی جدت سے متعلق صلاحیت اور نتائج کا تقابلی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس میں ادارہ جاتی ماحول، انسانی سرمایہ اور تحقیق، انفراسٹرکچر، مارکیٹ اور کاروباری ماحول کے ساتھ علم، ٹیکنالوجی اور تخلیقی پیداوار جیسے متعدد پہلو شامل کیے جاتے ہیں۔ کسی ملک کی مجموعی درجہ بندی ان مختلف اشاریوں کے مشترکہ نتائج سے بنتی ہے، اس لیے ایک سال میں رینک کی تبدیلی کو کسی ایک پالیسی یا شعبے سے منسوب کرنا درست نہیں ہوتا۔

پاکستان کا 95واں مقام یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی درجہ بندی میں اس کی پوزیشن میں گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتری آئی ہے، تاہم ملک اب بھی اشاریے میں شامل 139 معیشتوں کے درمیانی سے نچلے حصے میں موجود ہے۔ رپورٹ میں 'اوور پرفارمر' کی اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی جدت سے متعلق مجموعی کارکردگی اس کی آمدنی یا ترقی کی سطح سے متوقع کارکردگی کے مقابلے میں بہتر رہی، نہ کہ یہ کہ ملک دنیا کی سرکردہ جدت پسند معیشتوں میں شامل ہو گیا ہے۔

اس قسم کی درجہ بندی پالیسی سازوں کے لیے ان شعبوں کی شناخت میں مددگار ہو سکتی ہے جہاں تحقیق، ٹیکنالوجی، کاروباری اختراع اور علمی پیداوار کے لیے مزید سرمایہ کاری یا ادارہ جاتی اصلاحات درکار ہوں۔ پاکستان میں نوجوان آبادی، ڈیجیٹل خدمات، سافٹ ویئر اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار جدت کے ممکنہ ذرائع ہیں، جبکہ تحقیق و ترقی کے محدود وسائل، تعلیمی معیار، سرمایہ تک رسائی اور کاروباری ماحول جیسے مسائل پیش رفت کی رفتار متاثر کر سکتے ہیں۔

تازہ انڈیکس میں چار درجے بہتری ایک مثبت تقابلی اشارہ ہے، لیکن اس کی پائیداری آئندہ برسوں میں مسلسل پالیسی، تحقیق و ترقی کی مالی معاونت، جامعات اور صنعت کے روابط، دانشورانہ املاک کے مؤثر نظام اور نئی کمپنیوں کے لیے سازگار ماحول پر منحصر ہوگی۔ عالمی اشاریوں میں دوسرے ممالک کی کارکردگی بھی درجہ بندی کو متاثر کرتی ہے، اس لیے محض رینک کے بجائے پاکستان کے انفرادی اسکور اور مختلف ذیلی اشاریوں میں پیش رفت کو بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔