کراچی: پاکستان میں ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے کمرشل بینکوں کو امریکی ڈالر کی فروخت اگست میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 30 فیصد بڑھ گئی۔ ڈان کے مطابق ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگست 2026 میں کمپنیوں نے بینکوں کو 248.7 ملین ڈالر فروخت کیے، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ رقم 174.9 ملین ڈالر تھی۔

یہ اضافہ اوپن مارکیٹ اور رسمی مالیاتی نظام میں آنے والی غیر ملکی کرنسی کے بہاؤ کا ایک اہم اشارہ ہے۔ تاہم جولائی میں صورت حال مختلف رہی، جب بینکوں کو ڈالر فروخت 230.7 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال جولائی کے 290.6 ملین ڈالر سے کم تھی۔ رواں مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں ایکسچینج کمپنیوں نے مجموعی طور پر 479.5 ملین ڈالر بینکوں کو فروخت کیے، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ رقم 465.5 ملین ڈالر تھی۔

ای سی اے پی کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق کشمیر میں سیاسی کشیدگی اور انٹرنیٹ کی رکاوٹوں نے جولائی اور اگست کے دوران کرنسی کے بہاؤ کو متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات معمول پر آنے کے ساتھ انفلوز میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے پورے کشمیر میں انٹرنیٹ رسائی کی بحالی کے لیے اسٹیٹ بینک سے درخواست کیے جانے کا بھی ذکر کیا۔

رپورٹ میں خلیجی خطے کی جنگ اور وہاں پاکستانی کارکنوں کی صورتحال سے متعلق خدشات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ پاکستان کی ترسیلات زر کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے، اس لیے خطے میں طویل عدم استحکام روزگار اور ترسیلات کے بہاؤ پر ممکنہ دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم موجودہ اگست کے اعداد و شمار میں ایکسچینج کمپنیوں کی بینکوں کو فروخت میں واضح سالانہ اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔

حکومت نے مالی سال 2027 کے لیے ترسیلات زر کا ہدف 44 ارب ڈالر رکھا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں 41.5 ارب ڈالر کی آمد بتائی گئی۔ ایکسچینج کمپنیوں کی ڈالر فروخت ترسیلات زر کے مجموعی سرکاری اعداد و شمار کا متبادل نہیں، لیکن یہ رسمی مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسی کی دستیابی کا ایک متعلقہ پیمانہ ہے۔ آنے والے مہینوں کے اعداد و شمار سے واضح ہوگا کہ اگست کی بہتری مستقل رجحان بنتی ہے یا علاقائی حالات اور مقامی مارکیٹ عوامل کے باعث اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے۔