اسلام آباد: وفاقی حکومت نے برآمد کنندگان سے مشاورت کے بعد ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کو مزید بہتر بنانے اور بندرگاہوں کے بعد ملک کے ہوائی اڈوں پر بھی فیس لیس کسٹمز نظام متعارف کرانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے سینیٹ میں وقفۂ سوالات کے دوران حکومتی پالیسی سے متعلق یہ تفصیلات بتائیں۔
وزیر مملکت کے مطابق ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم برآمد کنندگان کو خام مال اور ضروری ان پٹس زیرو ریٹڈ بنیاد پر درآمد کرنے کی سہولت دیتی ہے، جس کا مقصد پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں قیمت کے لحاظ سے مسابقتی رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبے سے مشاورت کے ذریعے اسکیم میں مزید بہتری لائی جائے گی۔
بلال اظہر کیانی نے ایوان کو بتایا کہ کاروباری سہولت اور بدعنوانی کم کرنے کے لیے بندرگاہوں پر فیس لیس کسٹمز نظام متعارف کرایا جا چکا ہے اور اب یہی طریقہ ہوائی اڈوں پر نافذ کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ فیس لیس نظام میں کسٹمز کلیئرنس کے بعض مراحل کو براہ راست افسر اور تاجر کے رابطے سے الگ کر کے ڈیجیٹل طریقہ کار کی طرف منتقل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے تعمیراتی شعبے کے لیے ایک جامع پالیسی پر کام جاری ہونے کا بھی ذکر کیا۔ وزیر مملکت کے مطابق وزیراعظم کی اپنا گھر اسکیم کے تحت قابل ذکر رقم تقسیم کی جا چکی ہے اور اس پروگرام میں ایک کروڑ روپے تک کے قرضے پانچ فیصد شرح سود پر فراہم کیے جاتے ہیں۔
ٹیکس پالیسی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ برآمد کنندگان اور ایسے کاروبار جن کی سالانہ آمدن 50 کروڑ روپے سے زیادہ نہیں، ان کے لیے سپر ٹیکس ختم کیا گیا ہے۔ 50 کروڑ روپے سے زیادہ آمدن والے کاروبار کے لیے سپر ٹیکس کی شرح دس فیصد سے کم کر کے آٹھ فیصد کی گئی ہے۔ ان کے مطابق مالی گنجائش دستیاب ہونے پر شرح میں مزید کمی کا ارادہ ہے۔ یہ اعلانات حکومتی پالیسی اور منصوبہ بندی کی موجودہ سمت بیان کرتے ہیں؛ مجوزہ اقدامات کی حتمی شکل متعلقہ قواعد اور عمل درآمد کے مراحل سے واضح ہوگی۔
