استنبول: پاکستان اور ترکیہ نے اپنے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کے طے شدہ ہدف کی جانب پیش رفت تیز کرنے پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کے دوران تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کو وسیع کرنے کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔

سرکاری معلومات کے مطابق پاکستانی قیادت نے ترکیہ کے ساتھ دیرینہ سیاسی اور عوامی تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت اجاگر کی۔ دوطرفہ تجارت کے لیے پانچ ارب ڈالر کا ہدف پہلے سے دونوں ممالک کے ایجنڈے میں شامل ہے، اور تازہ رابطوں میں اس ہدف کے حصول کے لیے نجی شعبے، سرمایہ کاروں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ٹیکسٹائل، خوراک، انجینئرنگ، دفاعی صنعت، تعمیرات، سیاحت اور خدمات سمیت متعدد شعبوں میں کاروباری تعاون کی گنجائش موجود ہے۔ حکام کے مطابق تجارت میں اضافے کے لیے منڈی تک رسائی، کاروباری روابط اور سرمایہ کاری کے مواقع کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا ضروری ہوگا۔

پانچ ارب ڈالر کا عدد موجودہ تجارت کی تصدیق شدہ مالیت نہیں بلکہ مستقبل کے لیے مقرر کردہ ہدف ہے۔ اس لیے اسے حاصل شدہ تجارتی حجم کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ ہدف تک پہنچنے کی رفتار عالمی معاشی حالات، کاروباری معاہدوں، تجارتی سہولت کاری، نقل و حمل کے اخراجات اور دونوں ممالک کی درآمدی و برآمدی طلب سمیت متعدد عوامل پر منحصر رہے گی۔

پاکستان اور ترکیہ کے اعلیٰ سطحی سیاسی تعلقات کے باوجود اقتصادی حجم کو دستیاب صلاحیت کے مطابق بڑھانا دونوں حکومتوں کے لیے ایک مستقل پالیسی موضوع رہا ہے۔ تازہ رابطوں میں اسی خلا کو کم کرنے اور تجارت و سرمایہ کاری کو دوطرفہ تعلقات کا زیادہ نمایاں ستون بنانے کی خواہش ظاہر کی گئی۔ کسی نئے بڑے تجارتی معاہدے کی حتمی منظوری کے بجائے موجودہ پیش رفت پانچ ارب ڈالر کے مشترکہ ہدف کے لیے پالیسی عزم اور عملی تعاون بڑھانے پر مرکوز ہے۔