پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جو روزگار کی منڈی پر موجود دباؤ اور نئی ملازمتوں کی ضرورت کو نمایاں کرتی ہے۔ سروے میں ملک کی افرادی قوت، روزگار، بے روزگاری اور مختلف آبادیاتی گروہوں کی معاشی سرگرمی میں شرکت کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق لاکھوں افراد کام کرنے کی صلاحیت اور خواہش رکھنے کے باوجود روزگار سے محروم ہیں۔ بے روزگاری کا مسئلہ تمام گروہوں میں یکساں نہیں اور نوجوان افراد کو ملازمت کی منڈی میں داخل ہوتے وقت نسبتاً زیادہ مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ خواتین کی معاشی سرگرمی میں شرکت بھی مردوں کے مقابلے میں کم ہے، جس سے ملک کی مجموعی افرادی قوت کے مکمل استعمال کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔

لیبر فورس سروے روزگار کی صورتحال سمجھنے کے لیے اہم سرکاری شماریاتی ذریعہ ہے، لیکن بے روزگاری کی شرح کو تنہا معیشت کی مکمل تصویر نہیں سمجھا جا سکتا۔ روزگار کے معیار، اجرت، کام کے اوقات، غیر رسمی شعبے میں ملازمت، جزوقتی کام اور افراد کی مہارت کے مطابق روزگار ملنے جیسے عوامل بھی معاشی بہبود پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بڑی تعداد میں کارکن غیر رسمی معیشت سے وابستہ ہیں، جہاں ملازمت کا تحفظ اور سماجی تحفظ محدود ہو سکتا ہے۔

نوجوان آبادی پاکستان کے لیے ایک ممکنہ معاشی قوت ہے، تاہم اس فائدے کو حاصل کرنے کے لیے تعلیم، فنی تربیت اور نجی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھانا ضروری ہے۔ اگر نئی افرادی قوت کے لیے مناسب رفتار سے ملازمتیں پیدا نہ ہوں تو بے روزگاری اور کم معیار کے روزگار دونوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح خواتین کی افرادی قوت میں شرکت بڑھانے کے لیے محفوظ نقل و حرکت، کام کی جگہوں پر سہولیات اور مساوی مواقع اہم پالیسی عوامل ہیں۔

تازہ سروے کے نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حکومت سرمایہ کاری، برآمدات، صنعت اور ڈیجیٹل معیشت کو وسعت دینے کے ذریعے معاشی نمو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ روزگار میں پائیدار بہتری کا انحصار صرف مجموعی شرح نمو پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ ترقی کن شعبوں میں ہوتی ہے اور وہ کتنی بڑی تعداد میں معیاری ملازمتیں پیدا کرتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار مستقبل کی پالیسی کے لیے ایک بنیادی پیمانہ فراہم کرتے ہیں، جبکہ آئندہ سروے یہ دکھائیں گے کہ روزگار کی منڈی میں بہتری آتی ہے یا دباؤ برقرار رہتا ہے۔