اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 2027 کے لیے گندم کی اشاریاتی قیمت 4500 روپے فی 40 کلو مقرر کردی ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق نئی مجوزہ قیمت گزشتہ سال مقرر کیے گئے 3500 روپے فی 40 کلو کے مقابلے میں ایک ہزار روپے زیادہ ہے اور اس کا مقصد کسانوں کو بڑھتی پیداواری لاگت کے مقابلے میں ریلیف دینا اور گندم کی ملکی پیداوار میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، مہنگائی اور زرعی مداخل کی بڑھتی لاگت نے کسانوں کے اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ زیادہ اشاریاتی قیمت کاشتکاروں کو اپنی پیداواری لاگت پوری کرنے اور مناسب منافع حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے آئندہ سیزن میں گندم کی کاشت کا رقبہ اور پیداوار بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں کسان مالی دباؤ کا شکار رہے جبکہ پاکستان کو گزشتہ دو برس کے دوران گندم درآمد بھی کرنا پڑی۔ ان کے مطابق نئی قیمت کا مقصد مقامی پیداوار کو اس سطح تک لے جانے کی کوششوں کو تقویت دینا ہے جہاں خوراکی ضروریات کے لیے بیرونی انحصار کم ہو سکے۔ تاہم پیداوار میں حقیقی اضافہ موسم، زیر کاشت رقبے، زرعی مداخل اور مارکیٹ حالات سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوگا۔
وزیراعظم نے مشاورتی عمل میں صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی رہنمائی کا ذکر کیا، جبکہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز اور سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے تعاون کو بھی سراہا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق حکومت اس فیصلے کو کسانوں کی معاشی بہتری، زرعی معیشت کے استحکام اور خوراکی تحفظ مضبوط بنانے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔ اشاریاتی قیمت پالیسی رہنمائی فراہم کرتی ہے؛ اس کے بازار، سرکاری خریداری اور کسانوں کی آمدن پر عملی اثرات آئندہ گندم سیزن کے دوران سامنے آنے والے نفاذی اقدامات اور مارکیٹ قیمتوں سے واضح ہوں گے۔
