اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے استعفے کی وجہ ذاتی مصروفیات بتائی اور کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری سے متعلق آئینی ادارے میں رکن کے طور پر خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز تھا۔

فاروق نائیک نے اپنے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ذاتی ذمہ داریوں کے باعث کمیشن چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک صفحے کے خط میں انہوں نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور سینیٹ میں قائد ایوان، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا کہ انہیں حکومتی بنچوں کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کا رکن نامزد کیا گیا تھا۔

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان آئینی طور پر اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے عمل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ فاروق نائیک نے اپنی رکنیت کے دوران مختلف ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری سے متعلق متعدد اجلاسوں اور کارروائیوں میں حصہ لیا۔

فاروق نائیک پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور مختلف اہم آئینی و سیاسی مقدمات میں پیش ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے مقدمے سے متعلق صدارتی ریفرنس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سپریم کورٹ میں نمائندگی بھی کی تھی۔ اس کے علاوہ مخصوص نشستوں، احتساب قوانین میں ترامیم، صدارتی استثنیٰ اور صوبائی اسمبلیوں سے متعلق آئینی مقدمات میں بھی پیش ہو چکے ہیں۔

استعفے کے اعلان میں کسی پالیسی اختلاف، کمیشن کی کارروائی پر اعتراض یا سیاسی تنازع کو وجہ نہیں بتایا گیا۔ دستیاب بیان کے مطابق بنیادی وجہ ذاتی مصروفیات ہیں۔ اب حکومتی بنچوں کی جانب سے کمیشن میں خالی ہونے والی نمائندگی کے لیے آئندہ نامزدگی یا تقرری کا عمل متعلقہ آئینی و پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھے گا۔