اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایک سرکاری ملازم کی واپس لی گئی ترقی بحال کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ حکومت ملک کی سب سے بڑی سرکاری آجر ہونے کے ناطے اپنے ملازمین کے لیے واضح، مربوط اور قابل پیش گوئی قواعد کی مثال قائم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ عدالت نے سابق ایلیمنٹری اسکول ٹیچر فزیکل ایجوکیشن محمد شفیق کی اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر فزیکل ایجوکیشن کے عہدے پر ترقی کی واپسی کا فیصلہ کالعدم کر دیا۔
چھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس عائشہ ملک نے تحریر کیا، جبکہ دو رکنی بینچ میں جسٹس شاہد وحید بھی شامل تھے۔ عدالت نے کہا کہ اگر سروس قواعد ترقی کے راستوں اور دستیاب اختیارات کو مربوط انداز میں واضح نہ کریں تو پیدا ہونے والی غیر یقینی خود حکمرانی کی ناکامی کا سبب بن سکتی ہے۔ فیصلے میں زور دیا گیا کہ مبہم قواعد کا بوجھ صرف ادارے پر نہیں پڑتا بلکہ ملازم کو بھی برسوں تک ایسے حق کے لیے قانونی چارہ جوئی کرنا پڑ سکتی ہے جو سروس ڈھانچے میں پہلے ہی واضح ہونا چاہیے تھا۔
محمد شفیق 1995 میں محکمہ تعلیم میں ایلیمنٹری اسکول ٹیچر فزیکل ایجوکیشن کے طور پر شامل ہوئے تھے۔ انہیں اکتوبر 2020 میں اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر فزیکل ایجوکیشن، بی ایس 16، کے عہدے پر ترقی دی گئی، تاہم مئی 2023 میں یہ حکم واپس لے لیا گیا۔ پنجاب سروس ٹربیونل نے مارچ 2025 میں ان کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے خلاف معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔
عدالت نے 2014 کے پنجاب اسکول ایجوکیشن سروس رولز کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ قواعد کے آخر میں موجود ایک نوٹ کو ترقی کے بنیادی معیار کے خلاف رکاوٹ کے طور پر پڑھنا درست نہیں تھا۔ فیصلے کے مطابق محکمہ کی تشریح میں خامی تھی اور انتظامی سہولت قانون کا متبادل نہیں بن سکتی۔ عدالت نے کہا کہ بار بار سامنے آنے والی ساختی خامیوں کا مناسب جواب ملازم کو دیا گیا فائدہ واپس لینا نہیں بلکہ قواعد کی خامیوں کی نشاندہی، متاثرہ فریقوں سے مشاورت اور ضابطوں کی اصلاح ہے۔
فیصلے میں تنخواہ، سینیارٹی، ترقی اور ریٹائرمنٹ جیسے معاملات کو محض انتظامی پیچیدگیاں قرار دینے کے بجائے سرکاری ملازم کی پیشہ ورانہ سلامتی، پیش رفت اور وقار سے جوڑا گیا۔ عدالت کے مطابق قانونی یقین صرف قواعد کے وجود سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ ان کا واضح، مربوط اور مستقل طور پر قابل اطلاق ہونا بھی ضروری ہے۔
سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں کسی عمومی خودکار ترقی کا اصول مقرر نہیں کیا بلکہ زیر سماعت مخصوص سروس قواعد اور محمد شفیق کے معاملے کی بنیاد پر ان کی ترقی بحال کی۔ تاہم فیصلے میں سرکاری اداروں کے لیے وسیع انتظامی اصول واضح کیا گیا کہ پالیسی سازی، قواعد کی تیاری اور عمل درآمد میں ابہام کا بوجھ ملازم پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

