پاکستان نیوی نے سمندر میں انسدادِ منشیات کی دو الگ کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں منشیات ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان نیوی شپ یرموک نے پاکستانی ساحل سے خاصے فاصلے پر کارروائیاں کرتے ہوئے دو روایتی کشتیوں کو روکا، جن کے خفیہ خانوں سے منشیات برآمد ہوئیں۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق دونوں کارروائیوں میں تقریباً 850 کلوگرام آئس اور 2,000 کلوگرام حشیش یا کینابس قبضے میں لی گئی۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ضبط شدہ منشیات کی مجموعی مالیت تقریباً 96 ملین امریکی ڈالر بتائی ہے۔ یہ مالیت سرکاری بیان میں دی گئی ہے اور مارکیٹ یا منزل کے لحاظ سے اس کی قیمت میں فرق ہو سکتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پی این ایس یرموک نے دونوں کشتیوں کو سمندر میں روکا اور تلاشی کے دوران چھپائے گئے خانوں سے منشیات دریافت کیں۔ کارروائیوں کا مقصد سمندری راستوں کو منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے سے روکنا تھا۔ دستیاب سرکاری معلومات میں فوری طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ کشتیوں پر موجود افراد کی تعداد کتنی تھی، ان کی قومیت کیا تھی یا منشیات کہاں سے لائی اور کس منزل تک پہنچائی جا رہی تھیں۔

پاکستان نیوی بحیرہ عرب اور ملحقہ سمندری علاقوں میں میری ٹائم سکیورٹی، تجارتی راستوں کے تحفظ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے گشت اور نگرانی کرتی ہے۔ حالیہ کارروائی کو بھی اسی وسیع تر انسدادِ اسمگلنگ سرگرمی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ کامیاب ضبطی پاکستان نیوی کی سمندر میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کی صلاحیت اور بین الاقوامی بحری سلامتی میں کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم کسی ملزم کے خلاف مقدمہ، تفتیش یا عدالتی کارروائی سے متعلق تفصیلات سرکاری بیان میں فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے اس مرحلے پر واقعے کو منشیات کی ضبطی اور بحری کارروائی تک محدود طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

سمندری منشیات اسمگلنگ ایک سرحد پار مسئلہ ہے اور ایسے مقدمات میں برآمد شدہ مواد کی قانونی جانچ، تحویل، ممکنہ ملزمان کی شناخت اور متعلقہ اداروں کے درمیان شواہد کی منتقلی اہم مراحل ہوتے ہیں۔ اس کارروائی کے بارے میں مزید سرکاری معلومات سامنے آنے پر ہی راستے، نیٹ ورک یا کسی مخصوص گروہ سے تعلق کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کیا جا سکے گا۔