اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا ہے کہ صومالیہ کے قریب اغوا ہونے والے بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 سے بچائے گئے باقی تین پاکستانی عملہ ارکان وطن واپس آ رہے ہیں۔ ڈار کے مطابق وزارت خارجہ اور وفاقی حکومت نے جہاز کے پاکستانی عملے کی محفوظ واپسی کے لیے متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے اور کوششیں جاری رکھیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ باقی تین افراد کی واپسی ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس واقعے میں تین پاکستانی عملہ ارکان کی جانیں ضائع ہونے پر حکومت اور قوم کو گہرا دکھ ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لیے دعا اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس بحری واقعے کے بعد پاکستانی حکام عملے کے ارکان کی بازیابی اور واپسی کے انتظامات کے لیے مسلسل رابطے میں رہے۔

ایم ٹی آنر 25 کے معاملے نے سمندری راستوں پر پاکستانی شہریوں کی سلامتی اور قزاقی کے خطرات کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔ پاکستان نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ وہ بحری قزاقی کے خلاف بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری معلومات میں توجہ عملے کی بازیابی، ان کی وطن واپسی اور متاثرہ خاندانوں سے رابطے پر مرکوز رہی ہے۔

ڈار نے واضح کیا کہ محفوظ واپس آنے والے عملہ ارکان کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے، لیکن تین پاکستانیوں کی ہلاکت اس پیش رفت کے ساتھ ایک افسوس ناک پہلو ہے۔ حکام نے فوری طور پر واقعے سے متعلق کسی نئی فوجداری یا بین الاقوامی کارروائی کی تفصیل جاری نہیں کی، اس لیے اس مرحلے پر دستیاب تصدیق شدہ معلومات کو عملے کی واپسی اور ہلاکتوں تک محدود سمجھا جانا چاہیے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بحیرہ عرب، خلیج عدن اور صومالیہ کے اطراف تجارتی جہاز رانی کی سلامتی عالمی سطح پر مسلسل تشویش کا موضوع ہے۔ پاکستانی حکام کے لیے بیرون ملک اور سمندر میں کام کرنے والے شہریوں کی قونصلر معاونت بھی اس واقعے کا اہم پہلو رہی۔ باقی تین افراد کی وطن واپسی کے بعد حکومت کی فوری توجہ متاثرہ خاندانوں کو ضروری معاونت فراہم کرنے اور واقعے سے متعلق دستیاب معلومات مرتب کرنے پر رہے گی۔