پیرس: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے آن لائن گیمنگ اور جوئے کے تیزی سے پھیلتے شعبوں میں منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دیگر مالی جرائم کے نئے خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومتوں، ریگولیٹرز اور مالی اداروں کے لیے نئے رسک انڈیکیٹرز جاری کیے ہیں۔ تنظیم کے مطابق ڈیجیٹل، سرحد پار اور متعدد ادائیگی ذرائع استعمال کرنے والے پلیٹ فارمز نے مجرم نیٹ ورکس کے لیے رقم کی نقل و حرکت اور اصل ملکیت چھپانے کے نئے راستے پیدا کیے ہیں۔
ایف اے ٹی ایف کی ایک سالہ تحقیق میں 80 سے زائد دائرہ اختیار، صنعت سے وابستہ اداروں اور محققین کی معلومات شامل کی گئیں۔ رپورٹ میں روایتی کیسینو کے ساتھ آن لائن گیمنگ، قانونی اور غیر قانونی جوا، ادائیگی کے ذرائع اور ورچوئل اثاثوں کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔ تنظیم کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اس نے آن لائن اور غیر قانونی جوئے سے متعلق مالی جرائم کے خطرات کا اتنی تفصیل سے عالمی جائزہ لیا ہے۔
نئے اشاریوں میں ایسے رویوں کو مشکوک قرار دینے کی ہدایت دی گئی ہے جن میں ایک ہی شخص یا گروہ متعدد اکاؤنٹس اور مختلف شناختوں کے تحت ادائیگی ذرائع استعمال کرے، صارف اور ادائیگی کی معلومات میں تضاد ہو، شناختی دستاویزات مشکوک ہوں، غیر معمولی طور پر مربوط یا بڑے داؤ لگائے جائیں، یا رقم کو چھوٹے چھوٹے لین دین میں تقسیم کرکے نگرانی کی حد سے نیچے رکھنے کی کوشش کی جائے۔ ایف اے ٹی ایف نے اس آخری طریقے کو ”اسمر فنگ“ کے طور پر بیان کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض مجرم جوئے کے پلیٹ فارم کو حقیقتاً کھیلنے کے بجائے صرف رقم منتقل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ غیر لائسنس یافتہ آف شور آپریٹرز بھی بڑا خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانونی کاروبار کی شکل اختیار کرکے صارفین کو گمنامی اور تیز ادائیگی کی سہولت دے سکتے ہیں۔ ای والٹس، موبائل منی، نقد ادائیگی اور ورچوئل اثاثوں کے امتزاج سے ریگولیٹرز کے لیے فنڈز کے اصل ماخذ اور منزل کا سراغ لگانا مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
ایف اے ٹی ایف کے صدر جائلز تھامسن نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ خطرے کی بنیاد پر نگرانی مضبوط کریں، غیر قانونی اور آف شور آپریٹرز کے خلاف کارروائی کریں اور سرکاری و نجی شعبے کے درمیان معلومات کے تبادلے کو بہتر بنائیں۔ پاکستان سمیت ایف اے ٹی ایف کے معیارات اپنانے والے ممالک کے لیے یہ نئی رہنمائی مالیاتی نگرانی، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور غیر قانونی آن لائن بیٹنگ سے متعلق پالیسیوں میں اہم ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کسی ایک ملک کو قصوروار قرار نہیں دیتی بلکہ عالمی سطح پر ابھرتے خطرات اور ان کی شناخت کے عملی طریقے فراہم کرتی ہے۔




