اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں کے نئے نظام کے تحت 9 ستمبر کے لیے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے 58 پیسے اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 364 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل 4 روپے 18 پیسے مہنگا ہو کر 385 روپے 95 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد کے مطابق پٹرول پر مختلف ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کا مجموعی بوجھ 114 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر برقرار ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق بدھ 9 ستمبر سے کیا گیا۔ حالیہ مہینوں میں عالمی خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں بھی تیزی سے تبدیل ہوئی ہیں۔
حکومت نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی منڈی میں غیر معمولی تبدیلیوں، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع اور خلیجی خطے میں رسد کے خطرات کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ بنیاد پر طے کی جائیں گی۔ اسی نظام کے تحت موجودہ اضافہ کیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر برینٹ خام تیل 9 ستمبر کو دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر گیا، جس نے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے لاگت اور مہنگائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی ایندھن سے پورا کرتا ہے، اس لیے خام تیل کی عالمی قیمت، روپے کی شرح مبادلہ، درآمدی پریمیم اور سرکاری محصولات مقامی نرخوں پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کا استعمال مال برداری، زراعت اور پبلک ٹرانسپورٹ میں وسیع پیمانے پر ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ نقل و حمل اور پیداواری لاگت کے ذریعے دیگر اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
دستیاب سرکاری اور معتبر رپورٹس کے مطابق موجودہ نرخ ایک روزہ قیمت سازی کے نظام کے تحت نافذ ہوئے ہیں، اس لیے اگلے دن بین الاقوامی قیمتوں اور حکومتی حساب کے مطابق دوبارہ تبدیلی ممکن ہے۔ حکومت نے حالیہ ہفتوں میں اسی طریقہ کار کے تحت متعدد بار نرخ تبدیل کیے ہیں۔ صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے اہم نکتہ یہ ہے کہ اب پندرہ روزہ روایتی شیڈول کے بجائے عالمی منڈی کی تبدیلی مقامی پمپ قیمتوں میں کہیں زیادہ تیزی سے منتقل ہو رہی ہے۔




