کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل دوسرے کاروباری سیشن کے دوران فروخت کا دباؤ برقرار رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 993.63 پوائنٹس، یا 0.57 فیصد، کمی کے ساتھ 172,642 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروبار کے دوران انڈیکس ایک مرحلے پر 2,145 پوائنٹس تک گر کر 171,490.63 کی سطح پر پہنچا، تاہم اختتامی گھنٹوں میں کچھ ریکوری سے مجموعی نقصان محدود ہو گیا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں نے کمزوری کو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی خام تیل کی بلند قیمتوں اور پاکستان کے درآمدی اخراجات پر ممکنہ اثرات سے جوڑا۔ پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے، اس لیے تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل، زرمبادلہ کی طلب اور مہنگائی کے امکانات کے بارے میں سرمایہ کار حساس رہتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مقامی پیٹرولیم قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ٹاپ لائن سکیورٹیز کے مطابق جاری امریکا ایران تنازع اور بلند عالمی تیل نرخوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر دباؤ ڈالا۔ مارکیٹ میں یہ خدشہ موجود رہا کہ مہنگی توانائی پیداوار اور نقل و حمل کی لاگت بڑھا سکتی ہے اور بیرونی کھاتے پر اضافی بوجھ ڈال سکتی ہے۔ حالیہ تیزی کے بعد بعض سرمایہ کاروں نے منافع محفوظ کرنے کو ترجیح دی، جس سے بڑی انڈیکس کمپنیوں کے حصص میں فروخت بڑھی۔
انٹرا ڈے گراوٹ اور اختتامی سطح کے درمیان نمایاں فرق اس بات کی علامت ہے کہ نچلی قیمتوں پر کچھ خریداری واپس آئی، تاہم مجموعی رجحان منفی رہا۔ ایک دن کی مارکیٹ حرکت کو طویل مدتی معاشی سمت کا قطعی اشارہ نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ حصص کی قیمتیں عالمی خبروں، کمپنی نتائج، شرح سود، زرمبادلہ، سیاسی حالات اور سرمایہ کاروں کی پوزیشننگ سمیت کئی عوامل سے متاثر ہوتی ہیں۔
آئندہ سیشنز میں سرمایہ کار عالمی تیل قیمتوں، مشرق وسطیٰ کی جنگی صورتحال، پاکستان میں ایندھن کے نرخوں اور بیرونی کھاتے کے اشاروں پر نظر رکھیں گے۔ اگر خام تیل کی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو توانائی درآمد کرنے والی کمپنیوں اور مجموعی لاگت کے بارے میں خدشات برقرار رہ سکتے ہیں، جبکہ علاقائی کشیدگی میں کمی یا عالمی تیل میں نرمی مارکیٹ کے لیے مثبت محرک بن سکتی ہے۔




