اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ریٹیلرز کے لیے متعارف کرائی گئی آسان ٹیکس اسکیم کے تحت اب تک صرف 181 سادہ ٹیکس ریٹرنز جمع ہوئے ہیں، جن کے ساتھ 18 ملین روپے ٹیکس ادا کیا گیا۔ The News کے مطابق ملک میں تقریباً 35 لاکھ ریٹیلرز موجود ہیں اور حکومت نے اسکیم کا مقصد چھوٹے کاروباروں اور دکانداروں کو نسبتاً آسان طریقے سے ٹیکس نیٹ میں لانا قرار دیا ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ تقریباً 5,000 ریٹیلرز آسان ٹیکس اسکیم کی ایپ پر رجسٹر ہو چکے ہیں اور اپنے سادہ ریٹرنز جمع کرانے کے عمل میں ہیں۔ ان کے مطابق مختلف شہروں میں ٹیکس قوانین کی تعمیل کرنے والے دکانداروں کو ابتدائی طور پر 50 سبز شناختی پلیٹس جاری کی گئی ہیں، جبکہ پہلی پلیٹ پشاور کے ایک تاجر کو دی گئی۔
حکومت کے مطابق دکان پر گرین پلیٹ نمایاں کرنے والے رجسٹرڈ ریٹیلرز کو معمول کی FBR وزٹس، غیر ضروری پوچھ گچھ اور عمومی آڈٹ سے تحفظ دینے کا مقصد کاروباری طبقے کا اعتماد بڑھانا ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ اسکیم کاروباری نمائندوں کے ساتھ مشاورت کے بعد تیار کی گئی اور تاجروں کی جانب سے اٹھائے گئے بڑے تحفظات پر بات چیت کی گئی۔ حکومتی مؤقف ہے کہ چھوٹے کاروباروں کو پیچیدہ کاغذی کارروائی اور بار بار سرکاری مداخلت کے بغیر رجسٹریشن اور ریٹرن فائلنگ کا راستہ دیا جائے۔
The News کی رپورٹ کے مطابق 16 ستمبر تک FBR کو مجموعی طور پر 27 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرنز موصول ہو چکے تھے، جن کے ساتھ 6.1 ارب روپے ٹیکس ادائیگی ہوئی۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ تعداد 19 لاکھ ریٹرنز تھی۔ موجودہ مالی سال میں جمع ہونے والے ریٹرنز میں 18.5 لاکھ نان سیلریڈ اور 9.5 لاکھ سیلریڈ ٹیکس دہندگان سے منسوب کیے گئے ہیں۔ FBR نے مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی طور پر 85 لاکھ فائلرز کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں تقریباً 70 لاکھ ریٹرنز موصول ہوئے تھے۔
تاجر تنظیموں کے نمائندوں نے اسکیم کے ان حصوں کا خیر مقدم کیا ہے جو معمول کے چھاپوں، بار بار معائنے اور غیر ضروری سوال جواب میں کمی سے متعلق ہیں۔ سینٹرل انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ اور تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے اسے چھوٹے تاجروں کے لیے قابل عمل نظام بنانے کی سمت قدم قرار دیا۔ تاہم ابتدائی اعداد بتاتے ہیں کہ رجسٹرڈ ریٹیلرز اور واقعی ریٹرن فائل کرنے والوں کے درمیان ابھی نمایاں فرق موجود ہے، اس لیے اسکیم کی اصل کامیابی کا اندازہ آنے والے ہفتوں میں فائلنگ اور ٹیکس وصولی کے رجحان سے ہوگا۔
