بنکاک: پاکستان نے بین الاقوامی توانائی نمائش و کانفرنس Gastech میں پہلی مرتبہ باقاعدہ نمائندگی حاصل کی ہے، جہاں نجی شعبے کی Universal Gas Distribution Company (UGDC) نے شہری گیس اسٹوریج اور مخصوص صنعتی و شہری مراکز کے لیے ہدفی پائپ لائن نیٹ ورکس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی تجاویز پیش کی ہیں۔ منتظمین کے مطابق پاکستان 54ویں سالانہ Gastech ایونٹ میں پہلی بار شریک ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

UGDC نے نمائش میں اپنا اسٹال قائم کیا جہاں عالمی توانائی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے سامنے پاکستان کے گیس شعبے میں کاروباری مواقع پیش کیے گئے۔ کمپنی کا تصور یہ ہے کہ بڑے لوڈ سینٹرز کے لیے الگ یا ہدفی تقسیم نیٹ ورک اور شہری سطح پر گیس ذخیرہ کرنے کی سہولیات قائم کر کے موجودہ نظام کے نقصانات کم کرنے اور صارفین تک نسبتاً مؤثر سپلائی پہنچانے کے امکانات تلاش کیے جائیں۔

پاکستان میں اس وقت گیس کی بڑی تقسیم بنیادی طور پر سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے نیٹ ورکس کے ذریعے ہوتی ہے۔ نجی شعبہ اب غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار سے کاروبار مشترکہ منصوبوں کے ذریعے متبادل یا اضافی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے امکانات پیش کر رہا ہے۔ UGDC کا کہنا ہے کہ نجی سرمایہ اور نئی تقسیم ٹیکنالوجی گیس کی لاگت اور نظامی نقصانات کم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Gastech قدرتی گیس، ایل این جی، کم کاربن توانائی اور توانائی شعبے میں مصنوعی ذہانت سمیت مختلف موضوعات کا عالمی فورم ہے۔ بنکاک میں ہونے والے 2026 ایونٹ میں ہزاروں مندوبین اور سینکڑوں بڑی کمپنیوں کی شرکت بتائی گئی ہے۔ پاکستان کی نمائندگی ایسے وقت ہوئی ہے جب ملک کو درآمدی ایندھن کی بلند لاگت، گیس کی دستیابی اور موجودہ ترسیلی و تقسیمی نظام کی کارکردگی سے متعلق چیلنجز درپیش ہیں۔

نمائش میں پیش کی گئی سرمایہ کاری تجاویز ابھی کاروباری پیشکشیں ہیں، منظور شدہ انفراسٹرکچر منصوبے نہیں۔ کسی بھی نئے گیس اسٹوریج یا پائپ لائن نیٹ ورک کے عملی اجرا کے لیے سرمایہ کاری معاہدوں، ریگولیٹری اجازت، ٹیرف فریم ورک، زمین اور حفاظتی تقاضوں سمیت متعدد مراحل درکار ہوں گے۔ تاہم Gastech میں پہلی نمائندگی پاکستانی نجی گیس شعبے کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے براہ راست اپنے منصوبے پیش کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔