کوالالمپور/ہانگ کانگ: ملائیشیا کی حکومت کم لاگت فضائی کمپنی ایئرایشیا کی مالی حالت کی نگرانی کر رہی ہے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال کے لیے ملک کی دیگر ایئرلائنز سے متبادل صلاحیت کے بارے میں رابطہ کیا گیا ہے۔ رائٹرز نے معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے ملائیشیا ایئرلائنز اور باتک ایئر سے دریافت کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو وہ ایئرایشیا کے بعض مسافروں یا روٹس کو سنبھالنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہیں۔

یہ رابطے احتیاطی منصوبہ بندی کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں اور ان کا مطلب یہ نہیں کہ ایئرایشیا کی خدمات بند ہونے یا کسی فوری سرکاری مداخلت کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ ایئرایشیا جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے معروف کم لاگت ایئرلائن برانڈز میں شامل ہے اور ملائیشیا کے اندرونی و بین الاقوامی فضائی رابطوں میں بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ اسی وجہ سے کسی بھی مالی دباؤ کی صورت میں مسافروں، ہوائی اڈوں، سیاحت اور علاقائی رابطوں پر وسیع اثرات پڑ سکتے ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر کمپنی کو آپریشنل مشکلات کا سامنا ہو تو متبادل کیریئر کتنی جلدی اضافی پروازیں یا نشستیں فراہم کر سکتے ہیں۔ اس نوعیت کی منصوبہ بندی میں طیاروں کی دستیابی، عملہ، ہوائی اڈوں کے سلاٹس اور روٹ اجازت نامے اہم عوامل ہوتے ہیں۔ حکومت کے لیے بنیادی مقصد فضائی رابطوں میں بڑے خلل کے خطرے کو کم کرنا اور مسافروں کے لیے متبادل انتظامات کی تیاری رکھنا ہوگا۔

ایئرلائن صنعت میں ایندھن کی قیمت، کرنسی کی تبدیلی، قرض، لیز ادائیگیاں اور مسافروں کی طلب مالی کارکردگی پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ ملائیشیا کی جانب سے حریف کمپنیوں سے رابطہ اس بات کی علامت ہے کہ حکام ایک بڑے کیریئر سے وابستہ نظامی خطرے کو پیشگی سمجھنا چاہتے ہیں۔ تاہم چونکہ رپورٹ ذرائع پر مبنی ہے اور تمام تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں ہوئیں، اس لیے ایئرایشیا کی مالی حالت کے بارے میں کسی حتمی نتیجے یا دیوالیہ پن کے امکان کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔