سنگاپور: سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے اضافی خام تیل کی کھیپیں فراہم کرنے کی اطلاعات نے مشرق وسطیٰ میں رسد کی طویل رکاوٹ کے خدشات کچھ کم کیے، جس کے نتیجے میں بدھ کو عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل 83 سینٹ کم ہو کر 107.92 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 1.41 ڈالر گر کر 104.42 ڈالر فی بیرل تک آیا۔

گزشتہ سیشن میں قیمتیں تین ڈالر سے زیادہ بڑھی تھیں کیونکہ شپنگ ذرائع نے بتایا تھا کہ سعودی عرب کی بحیرہ احمر کی اہم برآمدی بندرگاہ ینبع پر خام تیل کی لوڈنگ معطل ہوئی اور بعض یورپی صارفین کے لیے کھیپیں منسوخ کی گئیں۔ اس پیش رفت نے خدشہ پیدا کیا تھا کہ اہم برآمدی راستے میں خلل کئی ہفتے جاری رہ سکتا ہے۔ تاہم بعد میں معاملے سے واقف افراد نے بتایا کہ سعودی عرب عمان کی سوہار بندرگاہ کے قریب جہاز سے جہاز منتقلی کے ذریعے ایشیائی ریفائنرز کو زیادہ خام تیل فراہم کر رہا ہے۔

یہ متبادل انتظام اس وقت سامنے آیا جب ڈرون حملوں سے سعودی عرب کی بحیرہ احمر کی سمت جانے والی اہم تیل پائپ لائن کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات تھیں۔ عمان کے قریب اضافی لوڈنگ سے مارکیٹ کو یہ اشارہ ملا کہ سعودی برآمدات مکمل طور پر محدود نہیں ہوں گی۔ اس کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت معمول سے کافی کم رہی؛ ابتدائی شپنگ ڈیٹا کے مطابق منگل کو صرف چار نمایاں ٹرانزٹ ریکارڈ ہوئے، جبکہ دس روزہ اوسط 18 تھی۔

امریکی ذخائر کے اعداد و شمار نے بھی قیمتوں پر دباؤ ڈالا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے ڈیٹا میں 11 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل کے ذخائر 71 لاکھ بیرل بڑھے، حالانکہ رائٹرز سروے میں تقریباً 16 لاکھ بیرل کمی کی توقع تھی۔ پٹرول اور ڈسٹلیٹ ذخائر میں بھی اضافہ رپورٹ ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی اب بھی رسد کے خطرات سے دوچار ہے، مگر عمان کے راستے سعودی اضافی کھیپوں نے فوری طور پر بدترین رکاوٹ کے خدشات کو کچھ کم کیا ہے۔