جنیوا: ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے اپنی تازہ سالانہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ عالمی تجارتی نظام ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور بدلتی عالمی معیشت کے مطابق قواعد میں اصلاحات نہ کی گئیں تو معاشی تقسیم کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق تنظیم نے بڑھتی جغرافیائی کشیدگی، ریاستی مداخلت، ڈیجیٹل تجارت اور عالمی معاشی طاقت کے بدلتے توازن کو موجودہ تجارتی قواعد کے لیے بڑے چیلنج قرار دیا ہے۔

ڈبلیو ٹی او کے اندازوں کے مطابق اگر عالمی معیشت حریف تجارتی بلاکس میں تقسیم ہو جائے تو 2050 تک عالمی مجموعی پیداوار میں 6.9 فیصد تک کمی اور عالمی برآمدات میں تقریباً 27 فیصد گراوٹ آ سکتی ہے۔ اس کے برعکس زیادہ مضبوط کثیرالجہتی تعاون عالمی جی ڈی پی میں 2.9 فیصد اور برآمدات میں 18 فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ معاشی تقسیم کا سب سے زیادہ نقصان کم آمدنی والے اور نسبتاً کمزور ممالک کو ہو سکتا ہے کیونکہ ان کی منڈیاں، سرمایہ اور ٹیکنالوجی تک رسائی محدود ہو جائے گی۔

تنظیم کے 166 ارکان کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور مارچ 2026 میں اصلاحاتی مذاکرات بھی مطلوبہ نتیجہ نہیں دے سکے تھے۔ ڈبلیو ٹی او کے چیف اکانومسٹ راب اسٹائگر نے خبردار کیا کہ اگر کثیرالجہتی نظام کمزور ہوا اور علاقائی یا مخصوص شعبوں کے معاہدے غالب آئے تو تجارت زیادہ ترجیحی اور کم مؤثر ہو سکتی ہے، کیونکہ کمپنیاں معاشی کارکردگی کے بجائے سیاسی یا معاہداتی ترجیحات کی بنیاد پر سپلائی چین بنائیں گی۔

رپورٹ میں ’موسٹ فیورڈ نیشن‘ اصول کے تحت ہونے والی تجارت کے تناسب میں کمی کو بھی تشویش کی علامت قرار دیا گیا۔ ڈبلیو ٹی او کا بنیادی تصور یہ ہے کہ اراکین عمومی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کریں، مگر حالیہ برسوں میں دوطرفہ، علاقائی اور تزویراتی تجارتی بندوبست بڑھتے گئے ہیں۔ تنظیم نے ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ قواعد کو جدید بنائیں، ڈیجیٹل تجارت اور ریاستی صنعتی پالیسی جیسے نئے مسائل پر قابل عمل اتفاق پیدا کریں اور ایسے عالمی نظام کو محفوظ رکھیں جس میں چھوٹی معیشتوں کو بھی بڑی منڈیوں تک نسبتاً قابل پیش گوئی رسائی حاصل ہو۔