اسلام آباد: پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) نے چینی کی مجوزہ برآمد روکنے کی ہدایت کرتے ہوئے گندم کی کسی نئی درآمد کو بھی اپنی نگرانی کے بغیر آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب شوگر ایڈوائزری بورڈ نے 200,000 ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت کی سفارش کی تھی اور حکومت ملکی ذخائر و قیمتوں کی نگرانی کا مؤقف پیش کر رہی تھی۔

کمیٹی کے اجلاس میں چینی کی دستیابی، مقامی قیمتوں، ذخائر اور برآمد کے ممکنہ اثرات پر بحث ہوئی۔ متعلقہ وزیر نے مؤقف اختیار کیا کہ برآمد کی اجازت کا فیصلہ اس یقین کے بعد کیا گیا تھا کہ مقامی منڈی میں رسد کی کمی پیدا نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بڑے شہروں میں ذخائر اور قیمتوں کی نگرانی کی جائے گی تاکہ صارفین کو اچانک قیمتوں کے جھٹکے سے بچایا جا سکے۔

کمیٹی نے اس کے باوجود چینی کی برآمدی عمل کو روکنے کی ہدایت دی اور خوراکی اجناس سے متعلق فیصلوں پر زیادہ پارلیمانی نگرانی کا مطالبہ کیا۔ اسی تناظر میں گندم کی درآمد کے معاملے پر بھی کہا گیا کہ کمیٹی کی نگرانی کے بغیر کوئی درآمدی فیصلہ آگے نہ بڑھایا جائے۔ یہ ہدایت گزشتہ برسوں میں چینی اور گندم کی درآمد و برآمد سے متعلق پالیسی فیصلوں، قیمتوں اور سرکاری مالی اثرات پر ہونے والی تنقید کے پس منظر میں اہم ہے۔

اجلاس میں گنے کے کاشتکاروں کے بقایا جات کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ متعلقہ وزیر نے شوگر مل مالکان کو ہدایت کی کہ کاشتکاروں کے تمام واجبات فوری طور پر ادا کیے جائیں اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کو حکومتی ترجیح قرار دیا۔ چینی کی صنعت میں کاشتکاروں کو بروقت ادائیگی، کرشنگ سیزن، اسٹاک کی درست رپورٹنگ اور مقامی قیمتوں کا باہمی تعلق پالیسی سازی میں اہم رہتا ہے۔

PAC کی ہدایت اور ایڈوائزری بورڈ کی سفارش کے درمیان فرق یہ واضح کرتا ہے کہ مجوزہ برآمد ابھی حتمی طور پر عملی مرحلے میں نہیں جانی چاہیے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار متعلقہ وزارتوں، اقتصادی فیصلہ ساز اداروں اور پارلیمانی نگرانی کے درمیان طے ہونے والے طریقہ کار پر ہوگا۔ مقامی منڈی کے لیے بنیادی پیمانے چینی کی دستیابی، صارف قیمت، ملوں کے حقیقی ذخائر اور کاشتکاروں کی ادائیگیاں رہیں گے، جبکہ گندم کے معاملے میں ملکی پیداوار اور ذخائر کے درست اعداد درآمدی ضرورت کا تعین کریں گے۔