فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے دکانداروں اور ریٹیلرز پر زور دیا ہے کہ وہ چھوٹے کاروباروں کے لیے متعارف کرائی گئی فکسڈ ٹیکس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں۔ ڈان کی 9 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے ایک عہدیدار نے کہا کہ اسکیم کا مقصد ٹیکس ادائیگی کو آسان، شفاف اور کم بوجھ والا بنا کر مزید چھوٹے کاروباروں کو دستاویزی معیشت میں لانا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کی اسی روز کی کاروباری رپورٹنگ میں چھوٹے دکانداروں کے لیے ایک فیصد ٹیکس اسکیم کا ذکر کیا گیا اور اسے آسان فائلنگ اور رضاکارانہ تعمیل سے جوڑا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اسکیم میں چھوٹے کاروباروں کے لیے پوائنٹ آف سیل اور آڈٹ سے متعلق بعض سہولتوں کا بھی ذکر ہے۔ حتمی اہلیت اور عملی شرائط کے لیے ایف بی آر کے باضابطہ قواعد اور نوٹیفکیشن بنیادی حوالہ رہیں گے۔
پاکستان میں ریٹیل شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوششیں طویل عرصے سے پالیسی بحث کا حصہ ہیں۔ چھوٹے تاجروں کی جانب سے عموماً پیچیدہ گوشواروں، ریکارڈ رکھنے کے تقاضوں اور آڈٹ کے خدشات کو اہم رکاوٹوں کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ فکسڈ یا سادہ ٹیکس نظام کا مقصد انہی رکاوٹوں کو کم کرتے ہوئے رضاکارانہ رجسٹریشن اور ادائیگی بڑھانا ہے۔
اسکیم کی کامیابی کا انحصار صرف شرحِ ٹیکس پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ تاجروں کو رجسٹریشن، ادائیگی اور گوشوارے جمع کرانے کا عمل کتنا واضح اور قابلِ عمل محسوس ہوتا ہے۔ ایف بی آر کے لیے دوسری اہم ضرورت یہ ہوگی کہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے کاروباروں اور نئے شامل ہونے والوں کے درمیان مساوی نفاذ یقینی بنایا جائے، تاکہ رسمی معیشت میں آنے والے تاجروں کو غیر منصفانہ مسابقت کا سامنا نہ ہو۔
دستیاب رپورٹس میں ایف بی آر کی توجہ سہولت اور رضاکارانہ تعمیل پر ہے۔ آئندہ مرحلے میں اسکیم میں شامل ہونے والے تاجروں کی تعداد، حاصل ہونے والی آمدن اور نفاذ کے طریقہ کار سے اندازہ ہوگا کہ یہ اقدام ریٹیل شعبے کی دستاویز بندی میں کس حد تک مؤثر ثابت ہوتا ہے۔




