اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے صوبائی چیف سیکریٹریز کو ہدایت کی ہے کہ وزیراعظم ’اپنا گھر اسکیم‘ کے تحت گھر بنانے کے لیے قرض حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو دستیاب کرائی جا سکنے والی جائیدادوں کا جامع سروے کیا جائے۔ یہ ہدایت ایکسس ٹو فنانس پلان 2026-28 کے جائزہ اجلاس میں دی گئی۔
جیو نیوز کے مطابق وزیراعظم نے کم اور متوسط آمدن والے طبقوں کے لیے سستی رہائش کی فراہمی کو حکومت کی اہم ترجیح قرار دیا۔ اجلاس میں بینکوں اور مالیاتی اداروں کے کردار پر بھی زور دیا گیا تاکہ رہائش کے ساتھ زراعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے قرضوں تک رسائی بڑھائی جا سکے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اپنا گھر اسکیم کے لیے اب تک 147,504 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ سرکاری بریفنگ کے مطابق 8,739 درخواست گزاروں کو مجموعی طور پر 45.4 ارب روپے کے ہاؤسنگ قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ اعدادوشمار اجلاس میں پیش کردہ سرکاری معلومات ہیں اور اسکیم کے موجودہ نفاذ کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے صوبائی انتظامیہ کو جائیدادوں کی دستیابی کا جائزہ لینے کی ہدایت اس لیے دی کہ قرض لینے والے اہل افراد کے لیے عملی طور پر گھر یا زمین تک رسائی کے امکانات واضح کیے جا سکیں۔ تاہم سروے کی تکمیل، ہر صوبے میں دستیاب جائیدادوں کی تعداد، قیمتوں اور اہلیت کے تفصیلی معیار کے بارے میں رپورٹ میں حتمی نتائج نہیں دیے گئے؛ یہ مرحلہ آئندہ انتظامی کارروائی سے واضح ہوگا۔
اجلاس ایک وسیع تر مالیاتی رسائی منصوبے کا حصہ تھا جس میں حکومت نے بینکوں اور مالیاتی اداروں سے زرعی شعبے، ایس ایم ایز اور ہاؤسنگ کے لیے قرضوں کی فراہمی بڑھانے پر زور دیا۔ اسکیم کے اگلے مرحلے کی کامیابی کا انحصار قرضوں کی شرائط، دستیاب جائیدادوں، صوبائی تعاون اور مالیاتی اداروں کی عملی شمولیت پر ہوگا۔




