کراچی: وفاقی حکومت نے ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے بین الاقوامی سپلائرز سے بولیاں طلب کر لی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون اور بزنس ریکارڈر کے مطابق درآمدی خریداری سی ایف آر یعنی لاگت اور فریٹ کی بنیاد پر کراچی اور/یا گوادر بندرگاہوں کے لیے کی جائے گی۔

ٹی سی پی کے ٹینڈر کے مطابق مجموعی مقدار میں معاہدے کی شرائط کے تحت 10 فیصد تک کمی بیشی کی گنجائش ہوگی۔ پیشکش کرنے والے عالمی سپلائرز کے لیے کم از کم بولی 50 ہزار میٹرک ٹن مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے کم مقدار کی پیشکش قبول نہیں کی جائے گی۔ گندم 2026 کی تازہ فصل سے ہونا ضروری ہے اور اسے ٹینڈر دستاویز اور درآمدی پالیسی میں درج معیار پر پورا اترنا ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق درآمدی گندم صوبوں میں ان کی طلب اور ضرورت کی بنیاد پر تقسیم کی جائے گی۔ بزنس ریکارڈر نے بتایا کہ گزشتہ فصل میں توقع سے کم پیداوار کے بعد ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے درآمد کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ حتمی خریداری کی قیمت، کامیاب سپلائرز اور ہر کھیپ کے شیڈول کا تعین بولیوں کی جانچ اور ٹینڈر کے مراحل مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔

ٹی سی پی نے سپلائرز کو ہدایت کی ہے کہ گندم بلک شکل میں فراہم کی جائے اور مقررہ بندرگاہوں تک ترسیل ٹینڈر کی طے شدہ شرائط اور شیڈول کے مطابق ہو۔ بین الاقوامی خریداری میں معیار، مقدار، فریٹ لاگت اور ترسیل کا وقت اہم عوامل ہوں گے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی اجناس اور توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ نقل و حمل کے اخراجات پر اثر ڈال سکتا ہے۔

درآمد کی منظوری فوری طور پر تمام 750,000 ٹن گندم پاکستان پہنچ جانے کے مترادف نہیں؛ فی الحال حکومت نے خریداری کی اجازت دی ہے اور ٹی سی پی نے ٹینڈر جاری کیا ہے۔ عملی درآمد کامیاب بولیوں، معاہدوں اور کھیپوں کی بندرگاہوں پر آمد کے ساتھ مرحلہ وار مکمل ہوگی۔