اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عالمی تیل منڈی میں جاری اتار چڑھاؤ کے دوران پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 10 ستمبر 2026 سے ہوگا۔

تازہ فیصلے کے بعد موٹر اسپرٹ یعنی پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 364 روپے 35 پیسے سے بڑھ کر 367 روپے 75 پیسے ہوگئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 385 روپے 95 پیسے سے بڑھ کر 392 روپے 67 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث بین الاقوامی خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بلند ہوئی ہیں اور برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر گیا ہے۔

حکومت نے حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں کے جائزے کے لیے زیادہ متواتر طریقہ کار اختیار کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی کی تبدیلیاں مقامی نرخوں میں نسبتاً جلد منتقل ہو رہی ہیں۔ ایک روز قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ اس مسلسل تبدیلی کا براہِ راست اثر نجی ٹرانسپورٹ کے ساتھ مال برداری، زرعی سرگرمیوں اور ڈیزل پر انحصار کرنے والے کاروباری شعبوں کی لاگت پر پڑ سکتا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات پاکستان کی درآمدی ضروریات اور مہنگائی کے اشاریوں میں اہم حیثیت رکھتی ہیں۔ خام تیل کی عالمی قیمت اور روپے کی قدر میں تبدیلی مقامی قیمت کے تعین کے بنیادی عوامل میں شامل ہوتی ہے، جبکہ ٹیکس اور سرکاری محصولات بھی صارف کی حتمی قیمت کا حصہ بنتے ہیں۔ موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی رسد سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں بین الاقوامی قیمتوں کی سمت پاکستان کے ایندھن نرخوں کے لیے بھی اہم رہے گی۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ نئی قیمتیں 10 ستمبر کے لیے نافذ ہوں گی۔ صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے اس فیصلے کا فوری نتیجہ پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی فی لیٹر لاگت میں اضافہ ہے، تاہم مستقبل کی قیمتوں کا انحصار عالمی منڈی اور حکومت کے آئندہ جائزوں پر ہوگا۔