اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے چھوٹے دکانداروں اور ریٹیلرز پر زور دیا ہے کہ وہ حال ہی میں متعارف کرائی گئی فکسڈ ٹیکس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں، جس کا مقصد چھوٹے کاروباروں کے لیے ٹیکس نظام میں اندراج اور تعمیل کے عمل کو نسبتاً آسان بنانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسکیم کے تحت اہل چھوٹے کاروباروں کے لیے ایک صفحے پر مشتمل سادہ ریٹرن کا طریقہ رکھا گیا ہے۔ ٹیکس کی شرح کاروباری ٹرن اوور کے ایک فیصد کے حساب سے ہوگی، تاہم کم از کم ٹیکس 25 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے چھوٹے تاجروں کے لیے پیچیدہ حساب کتاب اور دستاویزی تقاضے کم کیے جا سکیں گے۔

ایف بی آر نے اسکیم کو معیشت کے غیر دستاویزی حصے کو رسمی ٹیکس نظام میں لانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ پاکستان میں ریٹیل اور چھوٹے کاروباروں کے وسیع شعبے کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا معاملہ کئی برس سے پالیسی بحث کا حصہ رہا ہے۔ ماضی میں تاجروں نے بعض رجسٹریشن اور ٹیکس اقدامات پر لاگت، طریقۂ کار اور کاروباری حالات کے حوالے سے تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔

نئی اسکیم کی عملی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ کتنے دکاندار رضاکارانہ طور پر اندراج کرتے ہیں، ریٹرن جمع کراتے ہیں اور مقررہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ایک فیصد ٹرن اوور پر مبنی طریقہ کاروباری منافع کے بجائے فروخت کے حجم سے منسلک ہے، اس لیے مختلف مارجن رکھنے والے کاروباروں پر اس کے اثرات مختلف ہو سکتے ہیں۔ دستیاب رپورٹ میں اسکیم کے تمام اہلیتی معیار، استثنا یا نفاذ کی مکمل تکنیکی تفصیلات شامل نہیں، اس لیے تاجروں کو عملی فیصلہ کرتے وقت ایف بی آر کی باضابطہ ہدایات دیکھنا ہوں گی۔

ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ آسان ریٹرن اور واضح شرح سے ٹیکس تعمیل میں اضافہ اور چھوٹے کاروباروں کی دستاویز بندی بہتر ہو سکتی ہے۔ یہ ابھی ایک پالیسی اقدام ہے اور اس کے حقیقی مالی اثرات مستقبل میں رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ اور وصولیوں کے اعداد سے جانچے جا سکیں گے۔