کراچی: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے کاروباری برادری کے تقریباً 126 ارب روپے کے زیر التوا ٹیکس ریفنڈز اور ڈیوٹی ریبیٹس کی ادائیگی کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگون نے یہ تفصیلات ایف بی آر چیئرمین کے ساتھ کراچی میں ہونے والی ملاقات کے بعد بیان کیں۔

ایف پی سی سی آئی کے مطابق زیر التوا رقم میں تقریباً 83 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز اور 43 ارب روپے کے ڈیوٹی ریبیٹس شامل ہیں۔ ثاقب فیاض مگون نے کہا کہ ایف بی آر چیئرمین نے ان ادائیگیوں کو دو سے تین ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ یہ اعداد و مدت کاروباری تنظیم کے بیان پر مبنی ہیں؛ ایف بی آر کی جانب سے اسی تفصیل کے ساتھ الگ باضابطہ ادائیگی شیڈول رپورٹ میں شامل نہیں تھا، اس لیے اسے ایف پی سی سی آئی کی جانب سے بیان کردہ فیصلے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

ملاقات وزیراعظم کی اس ہدایت کے تحت ہوئی جس کے مطابق کراچی کی کاروباری برادری کے ساتھ ہر ماہ مشاورتی اجلاس منعقد کیے جانے ہیں۔ اجلاس میں پرانے اور مؤخر شدہ ریفنڈز کے علاوہ ایکسپورٹ فیسیلٹیشن اسکیم، درآمدی خام مال کی ویلیوایشن، پری ارائیول گڈز ڈیکلریشن اور ٹیکس رجسٹریشن کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ کاروباری حلقوں کے لیے ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اس لیے اہم ہے کہ طویل تاخیر کمپنیوں کے ورکنگ کیپیٹل اور برآمدی آرڈرز کی مالی ضروریات پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے نمائندے کے مطابق ایکسپورٹ فیسیلٹیشن اسکیم کے تحت 10 فیصد ویلیو ایڈیشن سے متعلق جانچ کے باعث برآمدی سامان کو محض اسی بنیاد پر روکنے کے طریقہ کار میں نرمی پر اتفاق ہوا اور متعلقہ لاگت و ویلیوایشن کی جانچ بعد میں کی جا سکے گی۔ اسی طرح کلاسیفیکیشن تنازعات کے حل کی مدت 120 دن سے کم کر کے 90 دن کرنے کی ہدایت کا بھی ذکر کیا گیا۔ کم خطرے والی سیلز ٹیکس رجسٹریشن کو ایک ہفتے میں مکمل کرنے کی تجویز بھی اجلاس کا حصہ رہی۔

اگر 126 ارب روپے کی ادائیگیاں بیان کردہ مدت میں مکمل ہوتی ہیں تو اس سے برآمد کنندگان اور دیگر کاروباری اداروں کی نقدی کی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ تاہم اصل معاشی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ کتنی رقم کس رفتار سے جاری ہوتی ہے اور زیر التوا دعووں کی تصدیق و پراسیسنگ کس طرح مکمل کی جاتی ہے۔ فی الحال بنیادی خبر ایف پی سی سی آئی کی جانب سے ایف بی آر چیئرمین کی ہدایات کی تصدیق ہے، نہ کہ تمام رقم کی بالفعل ادائیگی۔