اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ سینیٹر احد چیمہ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے قومی انفراسٹرکچر کے قابلِ عمل منصوبوں میں سرمایہ کاری کا ایک منظم اور پیشہ ورانہ طریقہ تیار کیا جائے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ ہدایات ریلوے، شاہراہوں، بجلی اور ہوائی اڈوں سے متعلق پاکستان کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پائپ لائن کے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں دی گئیں۔
احد چیمہ نے کہا کہ حکومت جب اوورسیز پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتی ہے تو انہیں قابلِ اعتماد، آسان اور پیشہ ورانہ طور پر مرتب مواقع بھی فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے حکام کو سرمایہ کاری فنڈ یا اسی نوعیت کے ڈھانچے کا جائزہ لینے کو کہا، جس کے ذریعے بیرونِ ملک پاکستانی کسی کاروبار کو براہ راست قائم یا چلائے بغیر بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ لگا سکیں۔
وزیر کے مطابق مجوزہ نظام میں شفافیت، تجارتی طور پر قابلِ قبول مواقع، مناسب حفاظتی انتظامات اور متعین منافع کی شرائط شامل ہونی چاہئیں۔ وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے تجویز کا خیر مقدم کیا اور اسے قابلِ عمل فریم ورک میں ڈھالنے کے لیے مزید جائزے سے اتفاق کیا۔ فی الحال یہ ایک پالیسی ہدایت اور زیرِ غور تصور ہے؛ کسی مخصوص فنڈ کا حتمی قیام، حجم یا منافع کی شرح ابھی منظور نہیں ہوئی۔
اجلاس میں مین لائن ون ریلوے منصوبہ بھی زیرِ بحث آیا۔ احد چیمہ نے کہا کہ حکومت کی پہلی ترجیح ایم ایل ون کے لیے کثیرالجہتی اور ترقیاتی شراکت داروں سے فنانسنگ حاصل کرنا ہوگی۔ کراچی تا روہڑی سیکشن ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ باقی حصوں کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو ثانوی آپشن کے طور پر برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کو لاہور تا راولپنڈی ایم ایل ون سیکشن کو ممکنہ پی پی پی ماڈل کے تحت جانچنے کا بھی کہا گیا، کیونکہ اس حصے میں دونوں شہروں کے درمیان سفر کا وقت کم کرنے کی صلاحیت بتائی گئی ہے۔ اجلاس میں کھاریاں-راولپنڈی موٹروے کا بھی جائزہ لیا گیا اور وزیراعظم آفس کی منظوری کے بعد تکنیکی اور تیاری کے کام میں تیزی لانے کی ہدایت کی گئی۔
حکومت کی یہ کوشش اوورسیز پاکستانیوں کی بچت کو بڑے قومی اثاثوں سے جوڑنے کے ایک ممکنہ راستے کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن سرمایہ کاروں کے لیے عملی پیشکش اس وقت ہی واضح ہوگی جب قانونی ڈھانچہ، منصوبوں کا انتخاب، رسک تقسیم، واپسی کی شرائط اور نگرانی کا طریقہ حتمی طور پر منظور کیا جائے گا۔




